کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنِي عَجْلَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا حَضَرَ أَبَا سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : إِلَى مَنْ تَكِلُنِي ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ أَبْدِلْ أُمَّ سَلَمَةَ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ خَطَبَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : إِنِّي كَبِيرَةُ السِّنِّ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ سِنًّا ، وَالْعِيَالُ عَلَى اللهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَسَأَدْعُو اللهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُذْهِبُهَا ، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِرَحَاءَيْنِ ، وَجَرَّةِ الْمَاءِ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (اضطراب کے عالم میں) عرض کیا: ”آپ مجھے کس کے سپرد کر کے جا رہے ہیں؟“، اس پر انہوں نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَبْدِلْ أُمَّ سَلَمَةَ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ» ”اے اللہ! ام سلمہ کو ابو سلمہ سے بہتر نعم البدل عطا فرما“۔ چنانچہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، جس پر انہوں نے (بوجہ معذرت) عرض کی: ”میں بڑی عمر کی عورت ہوں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں عمر میں تم سے بھی بڑا ہوں، اور عیال داری و بچوں کی فکر نہ کرو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، رہی بات غیرت کی تو میں اللہ عزوجل سے دعا کروں گا کہ وہ اسے تم سے دور فرما دے“۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا اور انہیں (بطورِ سامانِ خانہ داری) دو چکیاں اور پانی کا ایک گھڑا ارسال فرمایا۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4115
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 2648، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4161»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ .
4116 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَفَاتِهِ ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَهَا فَرَدَّتْهُ ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَدَّتْهُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُهَا ، فَقَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : إِنَّ فِيَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ، فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا رَدَّتْ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِمَّا غَضِبَ لِنَفْسِهِ ، فَأَتَاهَا فَقَالَ لَهَا : أَنْتِ الَّتِي تَرُدِّينَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَرُدِّينَهُ ؟
قَالَتْ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّ فِيَّ كَذَا وَكَذَا . وَفِي الْحَدِيثِ : فَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ الْغَيْرَةِ ، فَإِنِّي أَدْعُو اللهَ تَعَالَى أَنْ يُذْهِبَهَا . قَالَ : فَكَانَتْ فِي النِّسَاءِ كَأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْهُنَّ ، لَا تَجِدُ مَا يَجِدْنَ النِّسَاءُ مِنَ الْغَيْرَةِ .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، بِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ .
ترجمہ
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (گھر) آئے... پھر راوی نے ان کی وفات کا تذکرہ کیا، اور یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو) نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے معذرت کر لی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا تو انہوں نے بھی انکار کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے عرض کیا: ”مجھ میں تین خصلتیں (ایسی) ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب وہ باتیں سنیں جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جواب میں دی تھیں، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خاطر اپنی ذات سے بھی بڑھ کر غصے ہوئے، پھر وہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تم وہ ہو جو رسول اللہ ﷺ کا پیغام ٹھکراتی ہو؟ تم انہیں کس بنیاد پر جواب دے رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے ابنِ خطاب! مجھ میں فلاں فلاں (عذرات) پائے جاتے ہیں۔“ اور حدیث میں مروی ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا): ”رہی وہ غیرت و رشک جس کا تم نے ذکر کیا ہے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ اسے تم سے دور فرما دے۔“ راوی کہتے ہیں: (اس دعا کے بعد) وہ خواتین میں ایسی (بے نیاز) ہوگئیں گویا وہ ان میں سے ہیں ہی نہیں، وہ اب ویسی غیرت محسوس نہیں کرتی تھیں جو عام طور پر عورتیں محسوس کرتی ہیں۔
امام احمد نے اسے حماد بن سلمہ کے واسطے سے ثابت سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں یہ اضافہ موجود نہیں ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ الَّذِي تَزَوَّجَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - عَلَى شَيْءٍ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ .
4117 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَارُونُ الْحَمَّالُ ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، بِهِ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جس مہر پر نکاح فرمایا، وہ ایک ایسی چیز (ساز و سامان) تھی جس کی مالیت صرف دس درہم کے برابر تھی“۔
اس حدیث کو امام طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی ہارون الحمال کے واسطے سے اسے امام ابو داؤد طیالسی ہی کی سند سے نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4117
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مسند الطيالسي برقم: 2134، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 3385، وأخرجه مسند البزار برقم: 6897، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4117 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 498»