❮
❯
حدیث نمبر: 4116
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ .
4116 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَفَاتِهِ ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَهَا فَرَدَّتْهُ ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَدَّتْهُ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُهَا ، فَقَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : إِنَّ فِيَّ خِلَالًا ثَلَاثًا ، فَسَمِعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا رَدَّتْ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِمَّا غَضِبَ لِنَفْسِهِ ، فَأَتَاهَا فَقَالَ لَهَا : أَنْتِ الَّتِي تَرُدِّينَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ تَرُدِّينَهُ ؟
قَالَتْ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّ فِيَّ كَذَا وَكَذَا . وَفِي الْحَدِيثِ : فَأَمَّا مَا ذَكَرْتِ مِنَ الْغَيْرَةِ ، فَإِنِّي أَدْعُو اللهَ تَعَالَى أَنْ يُذْهِبَهَا . قَالَ : فَكَانَتْ فِي النِّسَاءِ كَأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْهُنَّ ، لَا تَجِدُ مَا يَجِدْنَ النِّسَاءُ مِنَ الْغَيْرَةِ .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، بِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ .
ترجمہ

سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (گھر) آئے... پھر راوی نے ان کی وفات کا تذکرہ کیا، اور یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو) نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے معذرت کر لی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا تو انہوں نے بھی انکار کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا تو انہوں نے عرض کیا: ”مجھ میں تین خصلتیں (ایسی) ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب وہ باتیں سنیں جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جواب میں دی تھیں، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خاطر اپنی ذات سے بھی بڑھ کر غصے ہوئے، پھر وہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تم وہ ہو جو رسول اللہ ﷺ کا پیغام ٹھکراتی ہو؟ تم انہیں کس بنیاد پر جواب دے رہی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے ابنِ خطاب! مجھ میں فلاں فلاں (عذرات) پائے جاتے ہیں۔“ اور حدیث میں مروی ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا): ”رہی وہ غیرت و رشک جس کا تم نے ذکر کیا ہے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ اسے تم سے دور فرما دے۔“ راوی کہتے ہیں: (اس دعا کے بعد) وہ خواتین میں ایسی (بے نیاز) ہوگئیں گویا وہ ان میں سے ہیں ہی نہیں، وہ اب ویسی غیرت محسوس نہیں کرتی تھیں جو عام طور پر عورتیں محسوس کرتی ہیں۔
امام احمد نے اسے حماد بن سلمہ کے واسطے سے ثابت سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں یہ اضافہ موجود نہیں ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»