المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ سودة باب: سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَى سَوْدَةَ بِطَلَاقِهَا ، فَقَالَتْ : أَمِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ طَلَّقَنِي ؟ فَجَلَسَتْ عَلَى طَرِيقِهِ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَمَرَّ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ ، وَاصْطَفَاكَ عَلَى الْخَلْقِ ، أَطَلَّقْتَنِي مِنْ مَوْجِدَةٍ وَجَدْتَهَا عَلَيَّ ؟ وَأَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ ، وَاصْطَفَاكَ عَلَى الْخَلْقِ ، لَمَا رَاجَعْتَنِي ، فَوَاللهِ لَقَدْ كَبِرْتُ ، وَمَا بِي حَاجَةٌ إِلَى الرِّجَلِ ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُبْعَثَ وَأَنَا مِنْ نِسَائِكَ ، فَرَاجَعَهَا ، فَقَالَتْ : فَإِنِّي أَهَبُ يَوْمِي وَلَيْلَتِي بِقُرَّةِ عَيْنِ رَسُولِ اللهِ عَائِشَةَ .قاسم بن ابی بزة سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی جانب ان کی طلاق کا پیغام بھیجا، تو انہوں نے (تعجب سے) کہا: ”کیا آپ ﷺ نے اپنی تمام ازواج میں سے صرف مجھے طلاق دی ہے؟“ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے اس راستے پر بیٹھ گئیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف جاتا تھا، جب آپ ﷺ وہاں سے گزرے تو انہوں نے عرض کی: «أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، وَاصْطَفَاكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَطَلَّقْتَنِي مِنْ مَوْجِدَةٍ وَجَدْتَهَا عَلَيَّ؟» ”میں آپ کو اس عظیم ذات کا واسطہ دیتی ہوں جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی اور آپ کو تمام مخلوق پر منتخب کیا، کیا آپ نے مجھے کسی ایسی قلبی ناراضی یا ملال کی وجہ سے طلاق دی ہے جو آپ نے میرے بارے میں محسوس کیا؟“ پھر انہوں نے دوبارہ عرض کی: «أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ، وَاصْطَفَاكَ عَلَى الْخَلْقِ، لَمَا رَاجَعْتَنِي» ”میں آپ کو اس ذات کا واسطہ دے کر کہتی ہوں جس نے آپ پر کتاب اتاری اور آپ کو پوری مخلوق پر برگزیدہ کیا کہ آپ مجھ سے رجوع فرما لیں، کیونکہ اللہ کی قسم! میں اب بوڑھی ہو چکی ہوں اور مجھے مردوں کی کوئی حاجت نہیں رہی، لیکن میری دلی خواہش یہ ہے کہ روزِ محشر جب میں اٹھائی جاؤں تو آپ کی ازواجِ مطہرات میں میرا شمار ہو“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے رجوع فرما لیا، تو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”پھر یقیناً میں نے اپنی باری کا دن اور اپنی رات رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک، سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کو ہبہ کر دی ہے“۔
مسند اسحاق بن راہویہ: 4114، اس کی سند مرسل ہے کیونکہ قاسم بن ابی بزة تابعی ہیں اور انہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے سماع نہیں کیا، تاہم اس واقعے کی اصل دیگر مستند احادیث و آثار سے ثابت ہے۔