کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ رحمہما اللہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ الْعَدَوِيِّ ، عَدَوِيِّ قُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو وَوَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ خَرَجَا يَلْتَمِسَانِ الدِّينَ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى رَاهِبٍ بِالْمَوْصِلِ ، فَقَالَ لِزَيْدِ بْنِ عَمْرٍو : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ يَا صَاحِبَ الْبَعِيرِ ؟ قَالَ : مِنْ بَنِيَّةِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : فَمَا تَلْتَمِسُ ؟ قَالَ : أَلْتَمِسُ الدِّينَ ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَظْهَرَ الَّذِي تَطْلُبُ فِي أَرْضِكَ ، فَأَمَّا وَرَقَةُ فَتَنَصَّرَ ، وَأَمَّا أَنَا فَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّصْرَانِيَّةُ فَلَمْ تُوَافِقْنِي ، فَرَجَعَ وَهُوَ يَقُولُ : لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا ، تَعَبُّدًا وَرِقًّا ، الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْخَالَ ، وَهَلْ تَرَى مُهَجِّرًا كَمَنْ قَالَ : آمَنْتُ بِمَا آمَنَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ ، ثُمَّ يَقُولُ :
أَبْغِي لَكَ اللَّهُمَّ عَانٍ رَاغِمٌ مَهْمَا تُجَشِّمْنِي فَإِنِّي جَاشِمٌ ثُمَّ يَخِرُّ فَيَسْجُدُ .
قَالَ : وَجَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ كَمَا رَأَيْتَ وَكَمَا بَلَغَكَ ، أَفَأَسْتَغْفِرُ لَهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ .
وَأَتَى زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُمَا يَأْكُلَانِ مِنْ سُفْرَةٍ لَهُمَا ، فَدَعَوَاهُ لِطَعَامِهِمَا ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَا نَأْكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ .
أَبْغِي لَكَ اللَّهُمَّ عَانٍ رَاغِمٌ مَهْمَا تُجَشِّمْنِي فَإِنِّي جَاشِمٌ ثُمَّ يَخِرُّ فَيَسْجُدُ .
قَالَ : وَجَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ كَمَا رَأَيْتَ وَكَمَا بَلَغَكَ ، أَفَأَسْتَغْفِرُ لَهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ .
وَأَتَى زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُمَا يَأْكُلَانِ مِنْ سُفْرَةٍ لَهُمَا ، فَدَعَوَاهُ لِطَعَامِهِمَا ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَا نَأْكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ .
ترجمہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل سچے دین کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ وہ موصل کے ایک راہب کے پاس پہنچے، اس نے زید بن عمرو سے کہا: ”اے اونٹ والے! تم کہاں سے آئے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”بنیہ ابراہیم (مکہ مکرمہ) سے۔“ اس نے پوچھا: ”تم کیا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میں سچے دین کی تلاش میں ہوں۔“ راہب نے کہا: ”تم واپس لوٹ جاؤ، کیونکہ جس (دین) کے تم طلبگار ہو اس کا ظہور تمہاری اپنی ہی سرزمین میں ہونے والا ہے۔“ چنانچہ ورقہ بن نوفل تو نصرانیت (عیسائیت) میں داخل ہو گئے، لیکن زید کہتے ہیں کہ میرے سامنے نصرانیت پیش کی گئی تو وہ مجھے پسند نہ آئی، پس وہ (مکہ) واپس لوٹ آئے اور (خانہ کعبہ کے پاس) یہ کہتے تھے: «لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا ، تَعَبُّدًا وَرِقًّا ، الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْخَالَ ، وَهَلْ تَرَى مُهَجِّرًا كَمَنْ قَالَ : آمَنْتُ بِمَا آمَنَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ» ”میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، برحق اور سچی حاضری، بندگی اور غلامی کے ساتھ، میں محض تیری رضا و نیکی کا طالب ہوں نہ کہ تکبر و بڑائی کا، اور کیا تم اللہ کے لیے گھر بار چھوڑنے والے کو اس شخص کی مانند سمجھتے ہو جس نے (محض زبانی) یہ کہا کہ میں اس دین پر ایمان لایا جس پر ابراہیم علیہ السلام ایمان لائے تھے؟“ پھر وہ مزید یہ کہتے تھے: «أَبْغِي لَكَ اللَّهُمَّ عَانٍ رَاغِمٌ مَهْمَا تُجَشِّمْنِي فَإِنِّي جَاشِمٌ» ”اے اللہ! میں عاجزی اور خاکساری کے ساتھ تیرا ہی طلبگار ہوں، تو مجھ پر جو بھی مشقت ڈالے گا میں اسے بخوشی جھیل لوں گا۔“ پھر وہ گر جاتے اور سجدہ کرنے لگتے۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ زید کے بیٹے (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے والد کی حالت وہی تھی جو آپ نے ملاحظہ فرمائی اور جو آپ تک ان کے متعلق خبر پہنچی، تو کیا میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، کیونکہ وہ قیامت کے دن (اپنی ذات میں) تنہا ایک پوری امت بنا کر اٹھائے جائیں گے۔“
اور (ایک دفعہ ایسا ہوا کہ) زید بن عمرو کی ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی جبکہ آپ ﷺ کے ہمراہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ دونوں اپنے دسترخوان سے کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے زید بن عمرو کو اپنے کھانے کی دعوت دی تو زید بن عمرو نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی: ”ہم وہ (گوشت) نہیں کھاتے جو بتوں کے تھان (آستانوں) پر ذبح کیا گیا ہو۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ زید کے بیٹے (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے والد کی حالت وہی تھی جو آپ نے ملاحظہ فرمائی اور جو آپ تک ان کے متعلق خبر پہنچی، تو کیا میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، کیونکہ وہ قیامت کے دن (اپنی ذات میں) تنہا ایک پوری امت بنا کر اٹھائے جائیں گے۔“
اور (ایک دفعہ ایسا ہوا کہ) زید بن عمرو کی ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی جبکہ آپ ﷺ کے ہمراہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ دونوں اپنے دسترخوان سے کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے زید بن عمرو کو اپنے کھانے کی دعوت دی تو زید بن عمرو نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی: ”ہم وہ (گوشت) نہیں کھاتے جو بتوں کے تھان (آستانوں) پر ذبح کیا گیا ہو۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ ، بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - . وَسُئِلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : أَبْصَرْتُهُ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ عَلَيْهِ سُنْدُسٌ .
* إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ مُجَالِدٍ ، وَقَدْ تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ .
* أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ ، وَتَفَرَّدَ بِهِ مُجَالِدٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ .
* إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ مُجَالِدٍ ، وَقَدْ تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ .
* أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ ، وَتَفَرَّدَ بِهِ مُجَالِدٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ .
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے زید بن عمرو بن نفیل کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن اسے تنہا ایک امت بنا کر اٹھایا جائے گا، جو میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی عرصہ سے تعلق رکھتا ہو گا۔“ اور آپ ﷺ سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اسے جنت کے وسطی حصے میں دیکھا ہے، اس نے باریک ریشم کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔“
اسماعیل سے مراد ابن مجالد ہیں اور یحییٰ بن سعید اموی نے ان کی متابعت کی ہے۔
اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے، اس کی روایت میں مجالد منفرد ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔
اسماعیل سے مراد ابن مجالد ہیں اور یحییٰ بن سعید اموی نے ان کی متابعت کی ہے۔
اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے، اس کی روایت میں مجالد منفرد ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَارًّا مِنْ أَيَّامِ مَكَّةَ ، وَهُوَ مُرْدِفِي إِلَى نُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ ، وَقَدْ ذَبَحْنَا لَهُ شَاةً فَأَنْضَجْنَاهَا ، قَالَ : فَلَقِيَهُ زَيْدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَحَيَّا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ تَحِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا زَيْدُ ، مَا لِي أَرَى قَوْمَكَ قَدْ شَنِفُوا لَكَ ؟ قَالَ : وَاللهِ يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ ذَلِكَ لِغَيْرِ نَايِلَةٍ لِي مِنْهُمْ ، وَلَكِنِّي خَرَجْتُ أَبْتَغِي هَذَا الدِّينَ ، حَتَّى أَقْدَمَ عَلَى أَحْبَارِ فَدَكَ ، فَوَجَدْتُهُمْ يَعْبُدُونَ اللهَ وَيُشْرِكُونَ بِهِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا بِالَّذِي أَبْتَغِي .
فَقَالَ شَيْخٌ مِنْهُمْ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دِينٍ مَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا يَعْبُدُ اللهَ بِهِ تَعَالَى إِلَّا شَيْخًا بِالْحِيرَةِ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ بَيْتِ اللهِ ، وَمِنْ أَهْلِ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ قَدْ ظَهَرَ بِبِلَادِكَ ، قَدْ بُعِثَ نَبِيٌّ قَدْ طَلَعَ نَجْمُهُ ، وَجَمِيعُ مَنْ رَأَيْتَهُمْ فِي ضَلَالٍ ، فَلَمْ أُحِسَّ بِشَيْءٍ بَعْدُ يَا مُحَمَّدُ .
قَالَ : فَقَرَّبَ إِلَيْهِ السُّفْرَةَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : شَاةٌ ذَبَحْنَاهَا لِنُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا كُنْتُ لِآكُلَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ .
قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ، وَأَنَا مَعَهُ ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَكَانَ عِنْدَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ صَنَمَانِ مِنْ نُحَاسٍ أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ : يَسَافٌ ، وَالْآخَرُ يُقَالُ لَهُ : نَائِلَةُ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا طَافُوا تَمَسَّحُوا بِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَمَسَّحَنَّهُمَا فَإِنَّهُمَا رِجْسٌ . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : لَأَمَسَّحَنَّهُمَا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَسَحْتُهُمَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا زَيْدُ ، أَلَمْ تُنْهَ ؟
وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ : إِنَّهُ يُبْعَثُ أُمَّةً وَحْدَهُ .
فَقَالَ شَيْخٌ مِنْهُمْ : إِنَّكَ لَتَسْأَلُ عَنْ دِينٍ مَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا يَعْبُدُ اللهَ بِهِ تَعَالَى إِلَّا شَيْخًا بِالْحِيرَةِ ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ بَيْتِ اللهِ ، وَمِنْ أَهْلِ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ فَقَالَ : إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ قَدْ ظَهَرَ بِبِلَادِكَ ، قَدْ بُعِثَ نَبِيٌّ قَدْ طَلَعَ نَجْمُهُ ، وَجَمِيعُ مَنْ رَأَيْتَهُمْ فِي ضَلَالٍ ، فَلَمْ أُحِسَّ بِشَيْءٍ بَعْدُ يَا مُحَمَّدُ .
قَالَ : فَقَرَّبَ إِلَيْهِ السُّفْرَةَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : شَاةٌ ذَبَحْنَاهَا لِنُصُبٍ مِنَ الْأَنْصَابِ . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا كُنْتُ لِآكُلَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ .
قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ، وَأَنَا مَعَهُ ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَكَانَ عِنْدَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ صَنَمَانِ مِنْ نُحَاسٍ أَحَدُهُمَا يُقَالُ لَهُ : يَسَافٌ ، وَالْآخَرُ يُقَالُ لَهُ : نَائِلَةُ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا طَافُوا تَمَسَّحُوا بِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَمَسَّحَنَّهُمَا فَإِنَّهُمَا رِجْسٌ . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : لَأَمَسَّحَنَّهُمَا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَسَحْتُهُمَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا زَيْدُ ، أَلَمْ تُنْهَ ؟
وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ : إِنَّهُ يُبْعَثُ أُمَّةً وَحْدَهُ .
ترجمہ
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ مکہ کے شدید گرم ایام میں سے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا، آپ ﷺ نے مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا اور ہم بتوں میں سے ایک بت (قربان گاہ) کی طرف جا رہے تھے، ہم نے اس کے لیے ایک بکری ذبح کی اور اسے خوب پکایا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ راستے میں آپ ﷺ کی ملاقات زید بن عمرو بن نفیل سے ہوئی، تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کو جاہلیت کے مروجہ طریقے پر سلام کیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے زید! کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری قوم تم سے سخت نالاں اور بیزار ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! اے محمد ﷺ، ان کی یہ بیزاری میری طرف سے انہیں پہنچنے والے کسی فائدے کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ میں اس سچے دین کی تلاش میں نکلا تھا، یہاں تک کہ میں فدک کے یہودی علماء کے پاس پہنچا، تو میں نے دیکھا کہ وہ اللہ کی عبادت تو کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں، چنانچہ میں نے دل میں کہا کہ یہ وہ چیز نہیں ہے جسے میں تلاش کر رہا ہوں۔“
پھر ان میں سے ایک بوڑھے عالم نے مجھ سے کہا: ”بے شک تم ایسے دین کے بارے میں سوال کر رہے ہو جس کے متعلق ہمیں علم نہیں کہ اس وقت کوئی شخص اس طریقے پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو، سوائے حیرہ کے مقام پر رہنے والے ایک معمر بزرگ کے۔“ چنانچہ میں وہاں سے نکلا اور ان کے پاس پہنچ گیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پوچھا: ”تم کہاں سے ہو؟“ میں نے کہا: ”میں اہل اللہ کے گھر (مکہ) سے ہوں اور کانٹے دار جھاڑیوں اور ببول (قرظ) والے علاقے سے تعلق رکھتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”جس کی تمہیں تلاش ہے وہ تمہارے اپنے ملک میں ظاہر ہو چکا ہے، ایک ایسے نبی مبعوث ہو چکے ہیں جن کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے، اور جن لوگوں کو تم نے وہاں دیکھا ہے وہ سب گمراہی میں ہیں۔“ (زید بن عمرو نے کہا:) ”اے محمد ﷺ! اس کے بعد سے میں نے ابھی تک کچھ خاص محسوس نہیں کیا تھا۔“
راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ نے ان کے سامنے دسترخوان قریب کیا، تو انہوں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ (زید بن حارثہ) کہتے ہیں: ہم نے کہا: ”یہ ایک بکری ہے جسے ہم نے ایک بت کے لیے ذبح کیا ہے۔“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں ایسی کسی چیز میں سے نہیں کھاؤں گا جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔“
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ بیت اللہ تشریف لائے اور اس کا طواف کیا، میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا، پھر صفا اور مروہ کی سعی کی، اس وقت صفا اور مروہ کے پاس تانبے کے بنے ہوئے دو بت تھے جن میں سے ایک کو ”یساف“ اور دوسرے کو ”نائلہ“ کہا جاتا تھا، اور مشرکین جب طواف کرتے تو برکت کے لیے ان سے اپنا ہاتھ مسح کرتے یعنی انہیں چھوتے تھے۔ تو نبی کریم ﷺ نے مجھے تاکید فرمائی: ”تم انہیں ہرگز نہ چھونا کیونکہ یہ پلیدی اور گندگی ہیں۔“ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں انہیں ضرور چھوؤں گا تاکہ دیکھوں کہ نبی کریم ﷺ کیا فرماتے ہیں، چنانچہ میں نے انہیں چھو لیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے ڈانٹتے ہوئے فرمایا: ”اے زید! کیا تمہیں منع نہیں کیا گیا تھا؟“
راوی کہتے ہیں کہ پھر زید بن عمرو کا انتقال ہو گیا اور نبی کریم ﷺ پر وحی کا نزول ہوا تو آپ ﷺ نے زید کے متعلق ارشاد فرمایا: ”بے شک وہ قیامت کے دن تنہا ایک پوری امت کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے۔“
پھر ان میں سے ایک بوڑھے عالم نے مجھ سے کہا: ”بے شک تم ایسے دین کے بارے میں سوال کر رہے ہو جس کے متعلق ہمیں علم نہیں کہ اس وقت کوئی شخص اس طریقے پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو، سوائے حیرہ کے مقام پر رہنے والے ایک معمر بزرگ کے۔“ چنانچہ میں وہاں سے نکلا اور ان کے پاس پہنچ گیا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پوچھا: ”تم کہاں سے ہو؟“ میں نے کہا: ”میں اہل اللہ کے گھر (مکہ) سے ہوں اور کانٹے دار جھاڑیوں اور ببول (قرظ) والے علاقے سے تعلق رکھتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”جس کی تمہیں تلاش ہے وہ تمہارے اپنے ملک میں ظاہر ہو چکا ہے، ایک ایسے نبی مبعوث ہو چکے ہیں جن کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے، اور جن لوگوں کو تم نے وہاں دیکھا ہے وہ سب گمراہی میں ہیں۔“ (زید بن عمرو نے کہا:) ”اے محمد ﷺ! اس کے بعد سے میں نے ابھی تک کچھ خاص محسوس نہیں کیا تھا۔“
راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ نے ان کے سامنے دسترخوان قریب کیا، تو انہوں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ (زید بن حارثہ) کہتے ہیں: ہم نے کہا: ”یہ ایک بکری ہے جسے ہم نے ایک بت کے لیے ذبح کیا ہے۔“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں ایسی کسی چیز میں سے نہیں کھاؤں گا جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔“
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ بیت اللہ تشریف لائے اور اس کا طواف کیا، میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا، پھر صفا اور مروہ کی سعی کی، اس وقت صفا اور مروہ کے پاس تانبے کے بنے ہوئے دو بت تھے جن میں سے ایک کو ”یساف“ اور دوسرے کو ”نائلہ“ کہا جاتا تھا، اور مشرکین جب طواف کرتے تو برکت کے لیے ان سے اپنا ہاتھ مسح کرتے یعنی انہیں چھوتے تھے۔ تو نبی کریم ﷺ نے مجھے تاکید فرمائی: ”تم انہیں ہرگز نہ چھونا کیونکہ یہ پلیدی اور گندگی ہیں۔“ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ میں انہیں ضرور چھوؤں گا تاکہ دیکھوں کہ نبی کریم ﷺ کیا فرماتے ہیں، چنانچہ میں نے انہیں چھو لیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے ڈانٹتے ہوئے فرمایا: ”اے زید! کیا تمہیں منع نہیں کیا گیا تھا؟“
راوی کہتے ہیں کہ پھر زید بن عمرو کا انتقال ہو گیا اور نبی کریم ﷺ پر وحی کا نزول ہوا تو آپ ﷺ نے زید کے متعلق ارشاد فرمایا: ”بے شک وہ قیامت کے دن تنہا ایک پوری امت کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے۔“