❮
❯
حدیث نمبر: 4022
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ الْعَدَوِيِّ ، عَدَوِيِّ قُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو وَوَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ خَرَجَا يَلْتَمِسَانِ الدِّينَ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى رَاهِبٍ بِالْمَوْصِلِ ، فَقَالَ لِزَيْدِ بْنِ عَمْرٍو : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ يَا صَاحِبَ الْبَعِيرِ ؟ قَالَ : مِنْ بَنِيَّةِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : فَمَا تَلْتَمِسُ ؟ قَالَ : أَلْتَمِسُ الدِّينَ ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَظْهَرَ الَّذِي تَطْلُبُ فِي أَرْضِكَ ، فَأَمَّا وَرَقَةُ فَتَنَصَّرَ ، وَأَمَّا أَنَا فَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّصْرَانِيَّةُ فَلَمْ تُوَافِقْنِي ، فَرَجَعَ وَهُوَ يَقُولُ : لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا ، تَعَبُّدًا وَرِقًّا ، الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْخَالَ ، وَهَلْ تَرَى مُهَجِّرًا كَمَنْ قَالَ : آمَنْتُ بِمَا آمَنَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ ، ثُمَّ يَقُولُ :
أَبْغِي لَكَ اللَّهُمَّ عَانٍ رَاغِمٌ مَهْمَا تُجَشِّمْنِي فَإِنِّي جَاشِمٌ ثُمَّ يَخِرُّ فَيَسْجُدُ .
قَالَ : وَجَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ كَمَا رَأَيْتَ وَكَمَا بَلَغَكَ ، أَفَأَسْتَغْفِرُ لَهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ .
وَأَتَى زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُمَا يَأْكُلَانِ مِنْ سُفْرَةٍ لَهُمَا ، فَدَعَوَاهُ لِطَعَامِهِمَا ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَا نَأْكُلُ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ .
ترجمہ

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل سچے دین کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ وہ موصل کے ایک راہب کے پاس پہنچے، اس نے زید بن عمرو سے کہا: ”اے اونٹ والے! تم کہاں سے آئے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”بنیہ ابراہیم (مکہ مکرمہ) سے۔“ اس نے پوچھا: ”تم کیا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میں سچے دین کی تلاش میں ہوں۔“ راہب نے کہا: ”تم واپس لوٹ جاؤ، کیونکہ جس (دین) کے تم طلبگار ہو اس کا ظہور تمہاری اپنی ہی سرزمین میں ہونے والا ہے۔“ چنانچہ ورقہ بن نوفل تو نصرانیت (عیسائیت) میں داخل ہو گئے، لیکن زید کہتے ہیں کہ میرے سامنے نصرانیت پیش کی گئی تو وہ مجھے پسند نہ آئی، پس وہ (مکہ) واپس لوٹ آئے اور (خانہ کعبہ کے پاس) یہ کہتے تھے: «لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا ، تَعَبُّدًا وَرِقًّا ، الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْخَالَ ، وَهَلْ تَرَى مُهَجِّرًا كَمَنْ قَالَ : آمَنْتُ بِمَا آمَنَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ» ”میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، برحق اور سچی حاضری، بندگی اور غلامی کے ساتھ، میں محض تیری رضا و نیکی کا طالب ہوں نہ کہ تکبر و بڑائی کا، اور کیا تم اللہ کے لیے گھر بار چھوڑنے والے کو اس شخص کی مانند سمجھتے ہو جس نے (محض زبانی) یہ کہا کہ میں اس دین پر ایمان لایا جس پر ابراہیم علیہ السلام ایمان لائے تھے؟“ پھر وہ مزید یہ کہتے تھے: «أَبْغِي لَكَ اللَّهُمَّ عَانٍ رَاغِمٌ مَهْمَا تُجَشِّمْنِي فَإِنِّي جَاشِمٌ» ”اے اللہ! میں عاجزی اور خاکساری کے ساتھ تیرا ہی طلبگار ہوں، تو مجھ پر جو بھی مشقت ڈالے گا میں اسے بخوشی جھیل لوں گا۔“ پھر وہ گر جاتے اور سجدہ کرنے لگتے۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ زید کے بیٹے (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے والد کی حالت وہی تھی جو آپ نے ملاحظہ فرمائی اور جو آپ تک ان کے متعلق خبر پہنچی، تو کیا میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، کیونکہ وہ قیامت کے دن (اپنی ذات میں) تنہا ایک پوری امت بنا کر اٹھائے جائیں گے۔“
اور (ایک دفعہ ایسا ہوا کہ) زید بن عمرو کی ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی جبکہ آپ ﷺ کے ہمراہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ دونوں اپنے دسترخوان سے کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے زید بن عمرو کو اپنے کھانے کی دعوت دی تو زید بن عمرو نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی: ”ہم وہ (گوشت) نہیں کھاتے جو بتوں کے تھان (آستانوں) پر ذبح کیا گیا ہو۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4022
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إِسْنَادُ هَذَا الطَّرِيقِ ضَعِيفٌ؛ لِجَهَالَةِ نُفَيْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَلِاخْتِلاَطِ المَسْعُودِيِّ. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16178، 16179، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 68/1»