المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ زيد بن عمرو بن نفيل وورقة رحمهما اللَّهُ باب: زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ رحمہما اللہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ ، بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - . وَسُئِلَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : أَبْصَرْتُهُ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ عَلَيْهِ سُنْدُسٌ .
* إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ مُجَالِدٍ ، وَقَدْ تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ .
* أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ ، وَتَفَرَّدَ بِهِ مُجَالِدٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے زید بن عمرو بن نفیل کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن اسے تنہا ایک امت بنا کر اٹھایا جائے گا، جو میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیانی عرصہ سے تعلق رکھتا ہو گا۔“ اور آپ ﷺ سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اسے جنت کے وسطی حصے میں دیکھا ہے، اس نے باریک ریشم کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔“
اسماعیل سے مراد ابن مجالد ہیں اور یحییٰ بن سعید اموی نے ان کی متابعت کی ہے۔
اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے، اس کی روایت میں مجالد منفرد ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔