المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمُدَّثِّرِ باب: سورۂ مدثر۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا ابْنُ صَمْعَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ حَبِيبَةَ - أَوْ أُمِّ حَبِيبَةَ - ، قَالَتْ : كُنَّا فِي بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، أَطْفَالٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلَّا جِيءَ بِهِمْ حَتَّى يُوقَفُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُمُ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ فَعَقَّبَ ، قَالَ : نَفَعَتِ الْآبَاءَ شَفَاعَةُ أَوْلَادِهِمْ .حبیبہ یا ام حبیبہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”جن مسلمان والدین کے تین ایسے بچے فوت ہو جائیں جو ابھی گناہ کی عمر کو نہ پہنچے ہوں، ان بچوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور جنت کے دروازے پر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر ان سے کہا جائے گا: تم اور تمہارے والدین جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت فرمایا: ﴿فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ [سورة المدثر: 48] ”پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ نہ دے گی۔“ راوی نے وضاحت کی کہ یہاں بچوں کی شفاعت نے ان کے والدین کو فائدہ پہنچایا۔
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے اسے اپنی سند سے روایت کیا ہے۔