قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا الرِّيَاحُ ، ذَكَرَهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا﴾ [سورة المرسلات: 2] کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد تند و تیز چلنے والی ہوائیں ہیں“، اور آپ نے اس کا تذکرہ ایک طویل حدیث میں فرمایا ہے۔
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی، ان سے حماد بن سلمہ نے اور انہوں نے سماک بن حرب کے واسطے سے خالد بن عرعرہ سے، اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی، ان سے حماد بن سلمہ نے اور انہوں نے سماک بن حرب کے واسطے سے خالد بن عرعرہ سے، اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَخْنَسِيُّ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، ثَنَا الْكَلْبِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَأَنْـزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : الْمُعْصِرَاتُ : الرِّيَاحُ ، مَاءً ثَجَّاجًا قَالَ : مُنْصَبًّا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس ارشاد ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا﴾ [سورة النبأ: 14] کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”الْمُعْصِرَاتُ“ سے مراد ہوائیں ہیں، اور ”مَاءً ثَجَّاجًا“ سے مراد کثرت سے بہنے والا اور موسلا دھار گرنے والا پانی ہے۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے؛ اس کی سند میں محمد بن السائب الکلبی نامی راوی ہے جو کہ سخت ضعیف اور متروک الحدیث ہے، اس لیے یہ روایت سنداً انتہائی کمزور ہے۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے؛ اس کی سند میں محمد بن السائب الکلبی نامی راوی ہے جو کہ سخت ضعیف اور متروک الحدیث ہے، اس لیے یہ روایت سنداً انتہائی کمزور ہے۔