المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمُدَّثِّرِ باب: سورۂ مدثر۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : بَيْنَمَا ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - جَالِسًا فِي حَوْضِ زَمْزَمَ ، وَالنَّاسُ يَسْأَلُونَهُ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَسَأَلَهُ عَنْ : وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ فَسَكَتَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَلَمَّا ثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ - أَوْ نَادَى الْمُنَادِي - قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ : اللَّيْلِ إِذَا أَدْبَرَ ؟ قَالَ : قَدْ دَبَرَ اللَّيْلُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ چاہِ زمزم کے پاس تشریف فرما تھے اور لوگ ان سے علمی سوالات پوچھ رہے تھے کہ اسی اثنا میں ایک شخص آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ﴾ [سورة المدثر: 33] کے متعلق دریافت کیا، جس پر آپ رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ پھر جب مؤذن نے نماز کی پکار بلند کی یا منادی نے آواز دی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا أَدْبَرَ﴾ کے متعلق سوال کیا تھا؟“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی مراد واضح کرتے ہوئے فرمایا: ”رات پیٹھ پھیر کر رخصت ہو گئی ہے۔“
امام مسدد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے اس واقعے کو روایت کیا ہے۔