قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : لَمَّا حَلَفَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ لَا يُنْفِقَ عَلَى مِسْطَحٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ ; فَأَحَلَّ يَمِينَهُ ، وَأَنْفَقَ عَلَيْهِ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حلف اٹھایا کہ وہ سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ پر مزید کچھ بھی خرچ نہیں کریں گے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة التحريم: 2] ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کو حلال کرنے (یعنی کفارہ ادا کرنے) کا طریقہ مقرر فرما دیا ہے۔“ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کر کے اسے حلال کر لیا اور مسطح رضی اللہ عنہ پر دوبارہ مال خرچ کرنا شروع کر دیا۔
امام حارث نے اس کی تخریج کی ہے، جس کی سند میں عبد العزیز بن ابان ضعیف راوی ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔
امام حارث نے اس کی تخریج کی ہے، جس کی سند میں عبد العزیز بن ابان ضعیف راوی ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : تَوْبَةً نَصُوحًا قَالَ : يَتُوبُ مِنَ الذَّنْبِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُ فِيهِ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان ﴿تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ [سورة التحريم: 8] کی تشریح و توضیح میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”سچی اور خالص توبہ یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہ سے توبہ کرے، پھر دوبارہ کبھی اس فعلِ بد کی طرف نہ پلٹے۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَا : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، قَالَ :
وَبِإِسْنَادِهِ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ فِرْعَوْنَ أَوْتَدَ لِامْرَأَتِهِ أَرْبَعَةَ أَوْتَادٍ فِي يَدَيْهَا وَرِجْلَيْهَا ، فَكَانَ إِذَا تَفَرَّقُوا عَنْهَا أَطْلَقَتْهَا الْمَلَائِكَةُ ، فَقَالَتْ : رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ : فَكُشِفَ لَهَا عَنْ بَيْتِهَا فِي الْجَنَّةِ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
وَبِإِسْنَادِهِ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ فِرْعَوْنَ أَوْتَدَ لِامْرَأَتِهِ أَرْبَعَةَ أَوْتَادٍ فِي يَدَيْهَا وَرِجْلَيْهَا ، فَكَانَ إِذَا تَفَرَّقُوا عَنْهَا أَطْلَقَتْهَا الْمَلَائِكَةُ ، فَقَالَتْ : رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ : فَكُشِفَ لَهَا عَنْ بَيْتِهَا فِي الْجَنَّةِ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”بے شک فرعون نے اپنی بیوی (سیدہ آسیہ علیہا السلام) کے لیے چار میخیں (گاڑنے کا حکم دیا) جو ان کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں (ٹھونکی گئی) تھیں، پس جب وہ (ظالم کارندے عذاب دے کر) ان کے پاس سے ہٹ جاتے تو فرشتے انہیں (اس جکڑن اور تکلیف سے) آزاد کر دیتے تھے، تب انہوں نے اللہ کے حضور یہ التجا کی: «رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ﴿رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ﴾ [سورة التحريم: 11] ”اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر تعمیر فرما دے۔“ راوی کہتے ہیں کہ (ان کی دعا کے نتیجے میں) ان کے لیے جنت میں ان کا گھر ظاہر کر دیا گیا (تاکہ وہ اسے دیکھ لیں)۔“
یہ روایت صحیح موقوف ہے۔
یہ روایت صحیح موقوف ہے۔