المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ تَبَارَكَ باب: سورہ تبارک۔
( 158 ) فِيهَا حَدِيثٌ فِي تَفْسِيرِ : الم تَنْـزِيلُ السَّجْدَةَ .
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لِرَجُلٍ : أَلَا أُطْرِفُكَ بِحَدِيثٍ تَفْرَحُ بِهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، يَرْحَمُكَ اللهُ ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : اقْرَأْ : تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ فَاحْفَظْهَا ، وَعَلِّمْهَا أَهْلَكَ ، وَجَمِيعَ وَلَدِكَ ، وَصِبْيَانَ بَيْتِكَ ، وَجِيرَانَكَ ; فَإِنَّهَا الْمُنْجِيَةُ ، وَهِيَ الْمُجَادِلَةُ : تُجَادِلُ وَتُخَاصِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّهَا لِقَارِئِهَا ، وَتَطْلُبُ إِلَى رَبِّهَا أَنْ يُنْجِيَهُ مِنَ النَّارِ إِذَا كَانَتْ فِي جَوْفِهِ ، وَيُنْجِي اللهُ تَعَالَى بِهَا صَاحِبَهَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَدِدْتُ أَنَّهَا فِي قَلْبِ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي . وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُخْتَصَرًا .
3763 \ 2 - وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ شَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَكَمِ ، مُقْتَصِرًا عَلَى الْمَرْفُوعِ ، لَكِنْ قَالَ : يَعْنِي : يس ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث کا تحفہ نہ دوں جس سے تم خوش ہو جاؤ؟“ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے ابو عباس! اللہ آپ پر رحم فرمائے، انہوں نے فرمایا: ”تم سورہ ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ [سورة الملك: 1] کی تلاوت کیا کرو، اسے حفظ کر لو اور اپنے اہل و عیال، اپنی تمام اولاد، اپنے گھر کے بچوں اور اپنے پڑوسیوں کو بھی اس کی تعلیم دو؛ کیونکہ یہ «الْمُنْجِيَةُ» ”نجات دلانے والی“ اور «الْمُجَادِلَةُ» ”دفاع کرنے والی“ ہے، یہ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور اپنے قاری کی طرف سے وکالت اور دفاع کرے گی اور اپنے رب سے التجا کرے گی کہ وہ اسے جہنم کی آگ سے بچا لے بشرطیکہ وہ اس کے سینے میں محفوظ ہو، اور اللہ تعالیٰ اس سورت کی برکت سے اس کے صاحب کو عذابِ قبر سے محفوظ فرمائے گا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری یہ دلی خواہش ہے کہ یہ سورت میری امت کے ہر فرد کے قلب میں محفوظ ہو۔“
اسے امام ترمذی نے مختصراً روایت کیا ہے، جبکہ امام بزار نے اسے سلمہ بن شبیب کے واسطے سے ابراہیم بن حکم سے نقل کیا ہے اور اسے صرف مرفوع حدیث تک محدود رکھا ہے، تاہم انہوں نے اس سے مراد سورہ «يس» ”یسین“ لی ہے، اور کہا ہے کہ ہمیں علم نہیں کہ یہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس سند کے سوا کسی اور طریقے سے مروی ہو۔