المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّحْرِيمِ باب: سورہ تحریم۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَا : ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، قَالَ :
وَبِإِسْنَادِهِ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ فِرْعَوْنَ أَوْتَدَ لِامْرَأَتِهِ أَرْبَعَةَ أَوْتَادٍ فِي يَدَيْهَا وَرِجْلَيْهَا ، فَكَانَ إِذَا تَفَرَّقُوا عَنْهَا أَطْلَقَتْهَا الْمَلَائِكَةُ ، فَقَالَتْ : رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ : فَكُشِفَ لَهَا عَنْ بَيْتِهَا فِي الْجَنَّةِ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”بے شک فرعون نے اپنی بیوی (سیدہ آسیہ علیہا السلام) کے لیے چار میخیں (گاڑنے کا حکم دیا) جو ان کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں (ٹھونکی گئی) تھیں، پس جب وہ (ظالم کارندے عذاب دے کر) ان کے پاس سے ہٹ جاتے تو فرشتے انہیں (اس جکڑن اور تکلیف سے) آزاد کر دیتے تھے، تب انہوں نے اللہ کے حضور یہ التجا کی: «رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» ﴿رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ﴾ [سورة التحريم: 11] ”اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر تعمیر فرما دے۔“ راوی کہتے ہیں کہ (ان کی دعا کے نتیجے میں) ان کے لیے جنت میں ان کا گھر ظاہر کر دیا گیا (تاکہ وہ اسے دیکھ لیں)۔“
یہ روایت صحیح موقوف ہے۔