المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ التَّحْرِيمِ باب: سورہ تحریم۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَعْمَرُ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : لَمَّا حَلَفَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ لَا يُنْفِقَ عَلَى مِسْطَحٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ ; فَأَحَلَّ يَمِينَهُ ، وَأَنْفَقَ عَلَيْهِ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حلف اٹھایا کہ وہ سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ پر مزید کچھ بھی خرچ نہیں کریں گے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة التحريم: 2] ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کو حلال کرنے (یعنی کفارہ ادا کرنے) کا طریقہ مقرر فرما دیا ہے۔“ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کر کے اسے حلال کر لیا اور مسطح رضی اللہ عنہ پر دوبارہ مال خرچ کرنا شروع کر دیا۔
امام حارث نے اس کی تخریج کی ہے، جس کی سند میں عبد العزیز بن ابان ضعیف راوی ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔