قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السَّلُولِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : كَانَ رَاهِبٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ ، وَإِنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا إِخْوَةٌ ، فَعَرَضَ لَهَا شَيْءٌ ، فَأَتَوْهُ بِهَا ، فَزَيَّنَتْ لَهُ نَفْسَهَا ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَحَمَلَتْ ، فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ : اقْتُلْهَا ; فَإِنَّهُمْ إِنْ ظَهَرُوا عَلَيْكَ افْتَضَحْتَ ، فَقَتَلَهَا وَدَفَنَهَا ، فَجَاؤُوهُ ، فَأَخَذُوهُ ، فَذَهَبُوا بِهِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَمْشُونَ بِهِ إِذْ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ : أَنَا الَّذِي زَيَّنْتُ لَكَ ، فَاسْجُدْ لِي سَجْدَةً أُنْجِكَ ، فَسَجَدَ لَهُ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ایک راہب تھا جو اپنی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو کر عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک عورت تھی جس کے کئی بھائی تھے، اسے کوئی ذہنی عارضہ یا جنونی کیفیت لاحق ہو گئی تو اس کے بھائی اسے (علاج یا دم کی غرض سے) اس راہب کے پاس لے آئے۔ پھر شیطان نے اس عورت کے حسن و جمال کو راہب کی نظروں میں اس قدر مزین اور آراستہ کر کے دکھایا کہ وہ اس کے فتنے میں مبتلا ہو کر اس سے بدفعلی کر بیٹھا، جس کے نتیجے میں وہ عورت حاملہ ہو گئی۔ تب شیطان اس کے پاس آیا اور اسے ورغلاتے ہوئے کہنے لگا: ”اس عورت کو قتل کر دے، کیونکہ اگر اس کے بھائیوں کو تیرے اس کرتوت کا علم ہو گیا تو تو سخت ذلیل و رسوا ہو جائے گا“، چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا اور زمین میں دفن کر دیا۔ پھر اس کے بھائی (اس کی خبر لینے) آئے تو حقیقتِ حال کھلنے پر انہوں نے اسے پکڑ لیا اور لے کر چل پڑے۔ جب وہ اسے لے کر جا رہے تھے تو شیطان دوبارہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میں ہی وہ ہوں جس نے تیرے لیے اس گناہ کو خوشنما بنایا تھا، اب تو مجھے صرف ایک سجدہ کر لے تو میں تجھے اس مصیبت سے نجات دلا دوں گا“، چنانچہ اس نے (جان بچانے کی لالچ میں) شیطان کو سجدہ کر دیا (اور کفر کا ارتکاب کر بیٹھا)۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ ہے: ﴿كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ﴾ [سورة الحشر: 16] یعنی: ”اس شیطان کی مانند جب اس نے انسان سے کہا کہ کفر کر، پھر جب وہ کفر کر بیٹھا تو شیطان کہنے لگا کہ میں تجھ سے بیزار اور بری الذمہ ہوں“۔“
اس روایت کی تخریج امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں کی ہے، یہ اثر اگرچہ سند کے اعتبار سے محلِ نظر ہے لیکن قرآنِ کریم کی اس آیت کے مفہوم اور شیطان کے مکر و فریب کی وضاحت میں مفسرین کے ہاں معروف و متداول ہے۔
اس روایت کی تخریج امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں کی ہے، یہ اثر اگرچہ سند کے اعتبار سے محلِ نظر ہے لیکن قرآنِ کریم کی اس آیت کے مفہوم اور شیطان کے مکر و فریب کی وضاحت میں مفسرین کے ہاں معروف و متداول ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَبَرَ صَائِمًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ يَمْشِي ، فَلَا يَجِدُ مَا يُفْطِرُ عَلَيْهِ ، فَيُصْبِحُ صَائِمًا ، حَتَّى فَطِنَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ : إِنِّي أَجِيءُ اللَّيْلَةَ بِضَيْفٍ لِي ، فَإِذَا وَضَعْتُمْ طَعَامَكُمْ فَلْيَقُمْ بَعْضُكُمْ إِلَى السِّرَاجِ كَأَنَّهُ يُصْلِحُهُ ، فَلْيُطْفِهِ ، ثُمَّ اضْرِبُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى الطَّعَامِ كَأَنَّكُمْ تَأْكُلُونَ ، فَلَا تَأْكُلُوا حَتَّى يَشْبَعَ ضَيْفُنَا فَلَمَّا أَمْسَى ذَهَبَ بِهِ ، فَوَضَعُوا طَعَامَهُمْ ، فَقَامَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى السِّرَاجِ كَأَنَّهَا تُصْلِحُهُ ، فَأَطْفَأَتْهُ ، ثُمَّ جَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الطَّعَامِ كَأَنَّهُمْ يَأْكُلُونَ ، وَلَا يَأْكُلُونَ ، حَتَّى شَبِعَ ضَيْفُهُمْ ، وَإِنَّمَا كَانَ طَعَامُهُمْ ذَلِكَ خُبْزَةً هِيَ قُوتُهُمْ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ثَابِتٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ثَابِتُ ، لَقَدْ عَجِبَ اللهُ تَعَالَى الْبَارِحَةَ مِنْكُمْ ، وَمِنْ صَنِيعِكُمْ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ فِيهِ هَذِهِ الْآيَةُ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ .
ترجمہ
ابو المتوکل الناجی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص کا گزر ہوا جو تین دن سے مسلسل روزے کی حالت میں پیدل سفر کر رہا تھا اور اسے افطار کے لیے کچھ میسر نہیں آ رہا تھا، وہ اسی حال میں روزے سے صبح کرتا رہا یہاں تک کہ ایک انصاری صحابی جنہیں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہیں اس کی حالت کا علم ہو گیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ”میں آج رات اپنے ایک مہمان کو ساتھ لاؤں گا، پس جب تم کھانا سامنے رکھ دو تو تم میں سے کوئی چراغ کی طرف اسے درست کرنے کے بہانے بڑھے اور اسے بجھا دے، پھر تم کھانے پر اپنے ہاتھ اس طرح مارنا جیسے تم کھا رہے ہو، لیکن تم نے کھانا نہیں ہے یہاں تک کہ ہمارا مہمان شکم سیر ہو جائے۔“ چنانچہ جب شام ہوئی تو وہ انہیں لے آئے، گھر والوں نے کھانا پیش کیا تو ان کی زوجہ چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھیں اور اسے بجھا دیا، پھر وہ سب کھانے پر ہاتھ اس طرح مارنے لگے گویا وہ کھا رہے ہوں لیکن وہ کھا نہیں رہے تھے، یہاں تک کہ ان کے مہمان نے پیٹ بھر کر کھا لیا، جبکہ ان کا وہ کل کھانا محض ایک روٹی تھی جو ان کی اپنی خوراک تھی۔ جب صبح ہوئی تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ثابت! یقیناً اللہ تعالیٰ گزشتہ رات تمہارے اور تمہارے اس طرزِ عمل سے بہت خوش ہوا (تعجب فرمایا)۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [سورة الحشر: 9] ”اور وہ (دوسروں کو) اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود سخت تنگی و فاقہ میں ہوں۔“
اس حدیث کی سند میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف ہیں، تاہم اس قصے کی اصل صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں یہ واقعہ ایک گمنام انصاری صحابی کا بتایا گیا ہے۔
اس حدیث کی سند میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف ہیں، تاہم اس قصے کی اصل صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں یہ واقعہ ایک گمنام انصاری صحابی کا بتایا گیا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، ثَنَا قَيْسٌ هُوَ ابْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِأَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ - قَالَ : مَنْ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ﴾ [سورة التوبة: 100] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے اس کی تشریح میں فرمایا: ”ان سے مراد وہ (صحابہ کرام) ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ دونوں قبلوں (بیت المقدس اور بیت اللہ) کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 1113) میں روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 1113) میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا حَفْصٌ ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَخَّصَ لَهُمْ فِي قَطْعِ النَّخْلِ ، ثُمَّ شَدَّدَ عَلَيْهِمْ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، عَلَيْنَا إِثْمٌ فِيمَا قَطَعْنَا ، أَوْ فِيمَا تَرَكْنَا ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (صحابہ کرام کو) کھجور کے درختوں کو کاٹنے کی اجازت دی گئی، پھر ان پر اس معاملے میں سختی کی گئی، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے جو درخت کاٹ دیے یا جو ہم نے باقی رہنے دیے، ان کے بارے میں ہم پر کوئی گناہ ہے؟“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ﴾ [سورة الحشر: 5] ”تم نے «لينة» (کھجور کے عمدہ درختوں) میں سے جو بھی کاٹے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، تو وہ سب اللہ ہی کے حکم و اذن سے تھا“۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، نیز اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، نیز اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔