المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحَشْرِ باب: سورت الحشر۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَبَرَ صَائِمًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ يَمْشِي ، فَلَا يَجِدُ مَا يُفْطِرُ عَلَيْهِ ، فَيُصْبِحُ صَائِمًا ، حَتَّى فَطِنَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ : إِنِّي أَجِيءُ اللَّيْلَةَ بِضَيْفٍ لِي ، فَإِذَا وَضَعْتُمْ طَعَامَكُمْ فَلْيَقُمْ بَعْضُكُمْ إِلَى السِّرَاجِ كَأَنَّهُ يُصْلِحُهُ ، فَلْيُطْفِهِ ، ثُمَّ اضْرِبُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى الطَّعَامِ كَأَنَّكُمْ تَأْكُلُونَ ، فَلَا تَأْكُلُوا حَتَّى يَشْبَعَ ضَيْفُنَا فَلَمَّا أَمْسَى ذَهَبَ بِهِ ، فَوَضَعُوا طَعَامَهُمْ ، فَقَامَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى السِّرَاجِ كَأَنَّهَا تُصْلِحُهُ ، فَأَطْفَأَتْهُ ، ثُمَّ جَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الطَّعَامِ كَأَنَّهُمْ يَأْكُلُونَ ، وَلَا يَأْكُلُونَ ، حَتَّى شَبِعَ ضَيْفُهُمْ ، وَإِنَّمَا كَانَ طَعَامُهُمْ ذَلِكَ خُبْزَةً هِيَ قُوتُهُمْ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ثَابِتٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ثَابِتُ ، لَقَدْ عَجِبَ اللهُ تَعَالَى الْبَارِحَةَ مِنْكُمْ ، وَمِنْ صَنِيعِكُمْ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ فِيهِ هَذِهِ الْآيَةُ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ .ابو المتوکل الناجی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص کا گزر ہوا جو تین دن سے مسلسل روزے کی حالت میں پیدل سفر کر رہا تھا اور اسے افطار کے لیے کچھ میسر نہیں آ رہا تھا، وہ اسی حال میں روزے سے صبح کرتا رہا یہاں تک کہ ایک انصاری صحابی جنہیں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہیں اس کی حالت کا علم ہو گیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ”میں آج رات اپنے ایک مہمان کو ساتھ لاؤں گا، پس جب تم کھانا سامنے رکھ دو تو تم میں سے کوئی چراغ کی طرف اسے درست کرنے کے بہانے بڑھے اور اسے بجھا دے، پھر تم کھانے پر اپنے ہاتھ اس طرح مارنا جیسے تم کھا رہے ہو، لیکن تم نے کھانا نہیں ہے یہاں تک کہ ہمارا مہمان شکم سیر ہو جائے۔“ چنانچہ جب شام ہوئی تو وہ انہیں لے آئے، گھر والوں نے کھانا پیش کیا تو ان کی زوجہ چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھیں اور اسے بجھا دیا، پھر وہ سب کھانے پر ہاتھ اس طرح مارنے لگے گویا وہ کھا رہے ہوں لیکن وہ کھا نہیں رہے تھے، یہاں تک کہ ان کے مہمان نے پیٹ بھر کر کھا لیا، جبکہ ان کا وہ کل کھانا محض ایک روٹی تھی جو ان کی اپنی خوراک تھی۔ جب صبح ہوئی تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ثابت! یقیناً اللہ تعالیٰ گزشتہ رات تمہارے اور تمہارے اس طرزِ عمل سے بہت خوش ہوا (تعجب فرمایا)۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [سورة الحشر: 9] ”اور وہ (دوسروں کو) اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود سخت تنگی و فاقہ میں ہوں۔“
اس حدیث کی سند میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف ہیں، تاہم اس قصے کی اصل صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں یہ واقعہ ایک گمنام انصاری صحابی کا بتایا گیا ہے۔