المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحَشْرِ باب: سورت الحشر۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا حَفْصٌ ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَخَّصَ لَهُمْ فِي قَطْعِ النَّخْلِ ، ثُمَّ شَدَّدَ عَلَيْهِمْ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، عَلَيْنَا إِثْمٌ فِيمَا قَطَعْنَا ، أَوْ فِيمَا تَرَكْنَا ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (صحابہ کرام کو) کھجور کے درختوں کو کاٹنے کی اجازت دی گئی، پھر ان پر اس معاملے میں سختی کی گئی، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے جو درخت کاٹ دیے یا جو ہم نے باقی رہنے دیے، ان کے بارے میں ہم پر کوئی گناہ ہے؟“ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ﴾ [سورة الحشر: 5] ”تم نے «لينة» (کھجور کے عمدہ درختوں) میں سے جو بھی کاٹے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، تو وہ سب اللہ ہی کے حکم و اذن سے تھا“۔
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، نیز اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔