المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحَشْرِ باب: سورت الحشر۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السَّلُولِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : كَانَ رَاهِبٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ ، وَإِنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا إِخْوَةٌ ، فَعَرَضَ لَهَا شَيْءٌ ، فَأَتَوْهُ بِهَا ، فَزَيَّنَتْ لَهُ نَفْسَهَا ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا ، فَحَمَلَتْ ، فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ : اقْتُلْهَا ; فَإِنَّهُمْ إِنْ ظَهَرُوا عَلَيْكَ افْتَضَحْتَ ، فَقَتَلَهَا وَدَفَنَهَا ، فَجَاؤُوهُ ، فَأَخَذُوهُ ، فَذَهَبُوا بِهِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَمْشُونَ بِهِ إِذْ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ : أَنَا الَّذِي زَيَّنْتُ لَكَ ، فَاسْجُدْ لِي سَجْدَةً أُنْجِكَ ، فَسَجَدَ لَهُ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ایک راہب تھا جو اپنی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو کر عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک عورت تھی جس کے کئی بھائی تھے، اسے کوئی ذہنی عارضہ یا جنونی کیفیت لاحق ہو گئی تو اس کے بھائی اسے (علاج یا دم کی غرض سے) اس راہب کے پاس لے آئے۔ پھر شیطان نے اس عورت کے حسن و جمال کو راہب کی نظروں میں اس قدر مزین اور آراستہ کر کے دکھایا کہ وہ اس کے فتنے میں مبتلا ہو کر اس سے بدفعلی کر بیٹھا، جس کے نتیجے میں وہ عورت حاملہ ہو گئی۔ تب شیطان اس کے پاس آیا اور اسے ورغلاتے ہوئے کہنے لگا: ”اس عورت کو قتل کر دے، کیونکہ اگر اس کے بھائیوں کو تیرے اس کرتوت کا علم ہو گیا تو تو سخت ذلیل و رسوا ہو جائے گا“، چنانچہ اس نے اسے قتل کر دیا اور زمین میں دفن کر دیا۔ پھر اس کے بھائی (اس کی خبر لینے) آئے تو حقیقتِ حال کھلنے پر انہوں نے اسے پکڑ لیا اور لے کر چل پڑے۔ جب وہ اسے لے کر جا رہے تھے تو شیطان دوبارہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میں ہی وہ ہوں جس نے تیرے لیے اس گناہ کو خوشنما بنایا تھا، اب تو مجھے صرف ایک سجدہ کر لے تو میں تجھے اس مصیبت سے نجات دلا دوں گا“، چنانچہ اس نے (جان بچانے کی لالچ میں) شیطان کو سجدہ کر دیا (اور کفر کا ارتکاب کر بیٹھا)۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ ہے: ﴿كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ﴾ [سورة الحشر: 16] یعنی: ”اس شیطان کی مانند جب اس نے انسان سے کہا کہ کفر کر، پھر جب وہ کفر کر بیٹھا تو شیطان کہنے لگا کہ میں تجھ سے بیزار اور بری الذمہ ہوں“۔“
اس روایت کی تخریج امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں کی ہے، یہ اثر اگرچہ سند کے اعتبار سے محلِ نظر ہے لیکن قرآنِ کریم کی اس آیت کے مفہوم اور شیطان کے مکر و فریب کی وضاحت میں مفسرین کے ہاں معروف و متداول ہے۔