المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحَدِيدِ وَسُورَةُ الْمُجَادَلَةِ باب: سورہ حدید اور سورہ مجادلہ۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثِ ابْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ فِي كِتَابِ اللهِ الْآيَةَ ، مَا عَمِلَ بِهَا أَحَدٌ قَبْلِي ، وَلَا عَمِلَ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي ، آيَةُ النَّجْوَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً - إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : كَانَ عِنْدِي دِينَارٌ بِعْتُهُ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ ، فَنَاجَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنْتُ كُلَّمَا نَاجَيْتُهُ قَدَّمْتُ بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَايَ دِرْهَمًا ، ثُمَّ نُسِخَتْ ، فَلَمْ يَعْمَلْ بِهَا أَحَدٌ ، فَنَزَلَتْ : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
3747 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ ، عَنْ لَيْثٍ بِهِ .
قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایک ایسی آیت موجود ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ ہی میرے بعد کوئی اس پر عمل کرے گا، اور وہ سرگوشی سے متعلق یہ آیت ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾ [سورة المجادلة: 12] ”اے ایمان والو! جب تم رسول (ﷺ) سے تنہائی میں بات کرنا چاہو تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ پیش کیا کرو۔““ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرے پاس ایک دینار تھا جسے میں نے دس درہموں کے عوض فروخت کر دیا، پھر میں جب بھی نبی کریم ﷺ سے علیحدگی میں گفتگو کرنا چاہتا تو اپنی اس گفتگو سے پہلے ایک درہم صدقہ کر دیتا، پھر اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا اور میرے علاوہ کسی اور نے اس پر عمل نہیں کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ﴾ [سورة المجادلة: 13] ”کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات پیش کرو۔““
اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے عبداللہ بن ادریس کے واسطے سے لیث سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ میں کہتا ہوں: اسے امام ترمذی نے علی بن علقمہ کے طریق سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے علاوہ مختلف سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔