المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْحَدِيدِ وَسُورَةُ الْمُجَادَلَةِ باب: سورہ حدید اور سورہ مجادلہ۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ - أَقْبَلَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ : أَيُّ شَيْءٍ أَحْدَثْنَا ؟ أَيُّ شَيْءٍ صَنَعْنَا ؟ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادِ گرامی نازل ہوا: ﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ﴾ [سورة الحديد: 16] یعنی "کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے پگھل جائیں اور ان میں خشوع و خضوع پیدا ہو؟" تو (اس پر) ہم ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور (فکر مندی سے) یہ سوال کرنے لگے: "ہم نے ایسا کیا نیا کام کر دیا ہے؟ ہم سے ایسا کیا عمل سرزد ہوا ہے (جس کی بنا پر یہ تنبیہ نازل ہوئی)؟"
امام ابویعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں، نیز امام مسلم نے بھی اس مفہوم کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔