المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النَّجْمِ باب: سورہ النجم۔
حدیث نمبر: 3734
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ قَالَ : كَانُوا يَمُرُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَامِخِينَ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الْفَحْلِ كَيْفَ يَخْطِرُ شَامِخًا ؟ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ﴾ [سورة النجم: 61] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”وہ (مشرکین) نبی کریم ﷺ کے پاس سے انتہائی تکبر، نخوت اور اپنی گردنیں اکڑا کر گزرا کرتے تھے، کیا تم نے کسی توانا نر اونٹ کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح اپنا سر بلند کیے اور گردن تان کر فخر و غرور کے ساتھ اتراتے ہوئے چلتا ہے؟“
امام حاکم نے اس کی تخریج کی ہے اور یہ اثر صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔