المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الطُّورِ باب: سورہ الطور۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، قَالَ : ... فَقَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ ، قَالَ : سَلْنِي عَمَّا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ ، فَقَالَ : مَا السَّقْفُ الْمَرْفُوعُ ؟ قَالَ : السَّمَاءُ ، قَالَ : فَمَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لِأَصْحَابِهِ : مَا تَقُولُونَ ؟ قَالُوا : هَذَا الْبَيْتُ : الْكَعْبَةُ ، فَقَالَ : لَا ، وَلَكِنَّهُ بَيْتٌ فِي السَّمَاءِ بِحِيَالِ الْبَيْتِ الْحَرَامِ ، يُقَالُ لَهُ : الضُّرَاحُ ، حُرْمَتُهُ فِي السَّمَاءِ كَحُرْمَةِ هَذَا فِي الْأَرْضِ ، يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ .خالد بن عرعرة سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں آپ سے جو پوچھنا چاہتا ہوں اس کے بارے میں مجھے بتائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرو جو فائدہ مند ہو اور نقصان دہ نہ ہو“، اس نے دریافت کیا: ”بلند چھت ﴿وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ﴾ [سورة الطور: 5] سے کیا مراد ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد آسمان ہے“، اس نے پھر پوچھا: ”آباد گھر ﴿وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ﴾ [سورة الطور: 4] سے کیا مراد ہے؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود لوگوں سے دریافت کیا: ”تم اس کے متعلق کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اس سے مراد یہی گھر یعنی کعبہ ہے“، آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ وہ آسمان میں ایک گھر ہے جو بالکل بیت اللہ (کعبہ) کی سیدھ میں اس کے اوپر واقع ہے، جسے «الضُّرَاحُ» کہا جاتا ہے، آسمان میں اس کی حرمت و قدسیت ویسی ہی ہے جیسی زمین میں اس گھر (کعبہ) کی ہے، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے (عبادت کے لیے) داخل ہوتے ہیں اور پھر (فرشتوں کی کثرت کی وجہ سے) دوبارہ کبھی ان کی باری نہیں آتی۔“
اسے امام اسحاق بن راہویہ نے روایت کیا ہے۔