المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النَّجْمِ باب: سورہ النجم۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ ، وَهُوَ شَاهِدٌ : الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلا اللَّمَمَ
قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : هِيَ النَّظْرَةُ وَالْغَمْزَةُ وَالْقُبْلَةُ وَالْمُبَاشَرَةُ ، فَإِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَهُوَ الزِّنَا ، وَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [سورة النجم: 32] کے متعلق روایت ہے کہ ان سے اس آیتِ کریمہ کے مفہوم کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس (لَمَم یعنی صغیرہ گناہوں) سے مراد «النَّظْرَةُ» ”نامحرم کو دیکھنا“، «الْغَمْزَةُ» ”آنکھ مارنا یا اشارہ کرنا“، «الْقُبْلَةُ» ”بوسہ لینا“ اور «الْمُبَاشَرَةُ» ”جسم سے جسم مس کرنا یا ہم آغوش ہونا“ ہے، البتہ جب «مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ» ”مرد اور عورت کے اعضائے مخصوصہ ایک دوسرے سے مل جائیں“ تو پھر وہ زنا کہلاتا ہے اور اس صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اور امام بیہقی نے 'السنن الکبریٰ' میں روایت کیا ہے۔