قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ الضَّبِّيُّ ، ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : كُنْتُ أَكْتُبُ هَذِهِ الْآيَةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمِلُّهَا : وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ حَتَّى بَلَغَ : ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ . فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : لِمَ ضَحِكْتَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ خُتِمَتْ بِمَا تَقُولُ : فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ .
جَابِرٌ هُوَ الْجُعْفِيُّ ضَعِيفٌ .
جَابِرٌ هُوَ الْجُعْفِيُّ ضَعِيفٌ .
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ”میں یہ آیت لکھ رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ مجھے وہ املا کروا رہے تھے: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ﴾ [سورة المؤمنون: 12] یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس مقام تک پہنچے: ﴿ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ﴾ [سورة المؤمنون: 14] تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے (بے ساختہ) کہا: «فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» یعنی ”پس اللہ تعالیٰ بڑی برکت والا ہے جو سب سے بہترین تخلیق کرنے والا ہے“، اس پر رسول اللہ ﷺ تبسم فرمانے لگے، تو انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! آپ کس وجہ سے مسکرائے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً یہ آیت انہی کلمات پر ختم ہوئی ہے جو تم نے ابھی کہے ہیں: «فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ»۔“
جابر (نامی راوی) الجعفی ہے جو کہ ضعیف ہے۔
جابر (نامی راوی) الجعفی ہے جو کہ ضعیف ہے۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ قَالَ : سَمِعْتُ الثَّوْرِيَّ ، يَقُولُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا قَالَ : الْقَضَاءُ .
ترجمہ
ابن ابی عمر سے روایت ہے کہ امام فضیل بن عیاض نے امام سفیان ثوری کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا﴾ [سورة المؤمنون: 106] کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس کلام «رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا» ”اے ہمارے پروردگار! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی قضا (یعنی تقدیر کا طے شدہ فیصلہ) ہے۔
یہ اثر امام سفیان ثوری سے مروی ہے، جس کی سند صحیح ہے اور اسے امام اسحاق بن راہویہ اور ابن ابی عمر نے روایت کیا ہے۔
یہ اثر امام سفیان ثوری سے مروی ہے، جس کی سند صحیح ہے اور اسے امام اسحاق بن راہویہ اور ابن ابی عمر نے روایت کیا ہے۔