❮
❯
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا الْفُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذَا الْحَرْفَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَوَصَّى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ فَلُصِقَتْ إِحْدَى الْوَاوَيْنِ بِالْأُخْرَى ، فَقَرَأَ لَنَا وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ وَلَوْ نَزَلَتْ عَلَى الْقَضَاءِ مَا أَشْرَكَ بِهِ أَحَدٌ فَكَانَ مَيْمُونٌ يَقُولُ : إِنَّ عَلَى تَفْسِيرِهِ لَنُورًا ، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے یہ کلمہ تمہارے نبی ﷺ کی زبانِ مبارک پر اس طرح نازل فرمایا تھا: «وَوَصَّى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» یعنی ”اور تمہارے رب نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو“، پھر (رسمِ خط میں) ان دو ”واؤ“ میں سے ایک دوسری کے ساتھ پیوست ہو گئی، جس کی بنا پر لوگوں نے اسے ہمارے سامنے اس طرح پڑھا: ﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ﴾ [سورة الإسراء: 23]، حالانکہ اگر یہ حکم حتمی اور تکوینی فیصلے (قضاء) کے طور پر نازل ہوا ہوتا تو کوئی بھی شخص اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا (کیونکہ اللہ کا تکوینی فیصلہ اٹل ہوتا ہے)۔“ میمون بن مہران رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”بے شک اس تفسیر پر حقانیت کا ایک خاص نور موجود ہے“، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا﴾ [سورة الشورى: 13]۔
اسے امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں فرات بن سائب نامی راوی ضعیف ہے، جبکہ قرآنِ کریم کی مستند اور متواتر قراءت ”وَقَضَى“ ہی ہے جو یہاں ”اَمَرَ“ یعنی حکم دینے کے معنی میں ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3650
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَامِرٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ قَالَ : يَدُهُ ، وَعَصَاهُ ، وَالسِّنِينُ ، وَالطُّوفَانُ ، وَالْجَرَادُ ، وَالْقُمَّلُ ، وَالضَّفَادِعُ ، وَالدَّمُ ، وَنَقْصٌ مِنَ الثَّمَرَاتِ .
ترجمہ
امام عامر الشعبی رحمہ اللہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾ [سورة الإسراء: 101] کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ”ان نو واضح نشانیوں سے مراد سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا (روشن) ہاتھ، آپ کا عصا، برسوں کی قحط سالی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون اور پھلوں کی پیداوار میں کمی ہے۔“
تخریج: اس اثر کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3651
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مقطوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح مقطوع »
«أخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي (1/63)، دون رقم مطبوع»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ قَالَ : السِّنِينُ : حَبَسَ عَنْهُمُ الْمَطَرَ ، وَنَقْصٌ مِنَ الثَّمَرَاتِ ، وَالطُّوفَانُ ، وَالْجَرَادُ ، وَالْقُمَّلُ وَالضَّفَادِعُ ، وَالدَّمُ ، وَعَصَاهُ ، وَيَدُهُ .
ترجمہ
ابو صالح اور عکرمہ رحمہما اللہ سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾ [سورة الإسراء: 101] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے کہا: ”ان نو نشانیوں سے مراد قحط سالی کے وہ سال ہیں جن میں ان سے بارش روک لی گئی تھی، پھلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہونا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون، موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ان کا روشن ہاتھ ہیں۔“
اس اثر کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3652
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مقطوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح مقطوع »
«أخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي (1/63)، دون رقم مطبوع»
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا قَالَ : كَانُوا يَجْهَرُونَ بِالدُّعَاءِ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُمِرُوا أَنْ لَا يَتَخَافَتُوا وَلَا يَجْهَرُوا .
( 152 ) وَحَدِيثُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فِي نُزُولِ قَوْلِهِ تَعَالَى : وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالآيَاتِ إِلا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الأَوَّلُونَ الْآيَاتِ الثَّلَاثِ ، يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ الشُّعَرَاءِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”لوگ دعا کرتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کیا کرتے تھے اور «اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي» ”اے اللہ! مجھ پر رحم فرما“ پکارتے تھے، پس جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ نہ تو بہت زیادہ پکار کر (دعا و قرأت) کریں اور نہ ہی بالکل پست آواز میں۔“
(152) نیز سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث، جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ﴾ [سورة الإسراء: 59] سمیت تین آیات کے نزول کے متعلق ہے، وہ ان شاء اللہ تعالیٰ سورہ شعراء کی تفسیر میں آئے گی۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3653
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف موقوف »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 3059، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8179، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 11710»