المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْإِسْرَاءِ باب: سورہ اسراء۔
حدیث نمبر: 3652
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ قَالَ : السِّنِينُ : حَبَسَ عَنْهُمُ الْمَطَرَ ، وَنَقْصٌ مِنَ الثَّمَرَاتِ ، وَالطُّوفَانُ ، وَالْجَرَادُ ، وَالْقُمَّلُ وَالضَّفَادِعُ ، وَالدَّمُ ، وَعَصَاهُ ، وَيَدُهُ .ترجمہ
ابو صالح اور عکرمہ رحمہما اللہ سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾ [سورة الإسراء: 101] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے کہا: ”ان نو نشانیوں سے مراد قحط سالی کے وہ سال ہیں جن میں ان سے بارش روک لی گئی تھی، پھلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہونا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون، موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ان کا روشن ہاتھ ہیں۔“
اس اثر کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔