المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْإِسْرَاءِ باب: سورہ اسراء۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا الْفُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذَا الْحَرْفَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَوَصَّى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ فَلُصِقَتْ إِحْدَى الْوَاوَيْنِ بِالْأُخْرَى ، فَقَرَأَ لَنَا وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ وَلَوْ نَزَلَتْ عَلَى الْقَضَاءِ مَا أَشْرَكَ بِهِ أَحَدٌ فَكَانَ مَيْمُونٌ يَقُولُ : إِنَّ عَلَى تَفْسِيرِهِ لَنُورًا ، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے یہ کلمہ تمہارے نبی ﷺ کی زبانِ مبارک پر اس طرح نازل فرمایا تھا: «وَوَصَّى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» یعنی ”اور تمہارے رب نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو“، پھر (رسمِ خط میں) ان دو ”واؤ“ میں سے ایک دوسری کے ساتھ پیوست ہو گئی، جس کی بنا پر لوگوں نے اسے ہمارے سامنے اس طرح پڑھا: ﴿وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ﴾ [سورة الإسراء: 23]، حالانکہ اگر یہ حکم حتمی اور تکوینی فیصلے (قضاء) کے طور پر نازل ہوا ہوتا تو کوئی بھی شخص اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا (کیونکہ اللہ کا تکوینی فیصلہ اٹل ہوتا ہے)۔“ میمون بن مہران رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”بے شک اس تفسیر پر حقانیت کا ایک خاص نور موجود ہے“، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا﴾ [سورة الشورى: 13]۔
اسے امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں فرات بن سائب نامی راوی ضعیف ہے، جبکہ قرآنِ کریم کی مستند اور متواتر قراءت ”وَقَضَى“ ہی ہے جو یہاں ”اَمَرَ“ یعنی حکم دینے کے معنی میں ہے۔