المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْإِسْرَاءِ باب: سورہ اسراء۔
حدیث نمبر: 3651
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَامِرٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ قَالَ : يَدُهُ ، وَعَصَاهُ ، وَالسِّنِينُ ، وَالطُّوفَانُ ، وَالْجَرَادُ ، وَالْقُمَّلُ ، وَالضَّفَادِعُ ، وَالدَّمُ ، وَنَقْصٌ مِنَ الثَّمَرَاتِ .ترجمہ
امام عامر الشعبی رحمہ اللہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾ [سورة الإسراء: 101] کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ”ان نو واضح نشانیوں سے مراد سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا (روشن) ہاتھ، آپ کا عصا، برسوں کی قحط سالی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون اور پھلوں کی پیداوار میں کمی ہے۔“
تخریج: اس اثر کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔