کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: خوش الحانی اور نغمگی کے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عِسْلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ فَلَيْسَ مِنَّا . "
3485 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ ، ثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَيُّوبَ وَعِسْلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، بِهَذَا .
3485
3485 \ 3 - وَقَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ السَّدُوسِيُّ ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عِسْلٍ ، بِهِ . قَالَ الْبَزَّارُ : مَا رَوَى شُعْبَةُ عَنْ عِسْلٍ إِلَّا هَذَا ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ .
3485 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ ، ثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَيُّوبَ وَعِسْلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، بِهَذَا .
3485
3485 \ 3 - وَقَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ السَّدُوسِيُّ ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عِسْلٍ ، بِهِ . قَالَ الْبَزَّارُ : مَا رَوَى شُعْبَةُ عَنْ عِسْلٍ إِلَّا هَذَا ، وَلَا رَوَاهُ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص قرآن مجید کو خوش الحانی کے ساتھ نہیں پڑھتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“
امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ اسحاق بن زیاد، معقل بن مالک اور ابو امیہ بن یعلی کے واسطے سے ایوب اور عسل بن سفیان سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔
نیز امام بزار نے ایک اور سند سے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ سدوسی نے روح بن عبادہ کے واسطے سے اور انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے عسل سے اسے روایت کیا ہے، امام بزار فرماتے ہیں کہ امام شعبہ نے عسل بن سفیان سے سوائے اس حدیث کے کوئی اور روایت نقل نہیں کی، اور شعبہ سے اسے روح بن عبادہ اور معاذ بن معاذ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا۔
امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ اسحاق بن زیاد، معقل بن مالک اور ابو امیہ بن یعلی کے واسطے سے ایوب اور عسل بن سفیان سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔
نیز امام بزار نے ایک اور سند سے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ سدوسی نے روح بن عبادہ کے واسطے سے اور انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے عسل سے اسے روایت کیا ہے، امام بزار فرماتے ہیں کہ امام شعبہ نے عسل بن سفیان سے سوائے اس حدیث کے کوئی اور روایت نقل نہیں کی، اور شعبہ سے اسے روح بن عبادہ اور معاذ بن معاذ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ( ثَنَا ) حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقْرَأُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَنِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعْنَ ، ( فَقِيلَ ) لَهُ ، فَقَالَ : لَوْ عَلِمْتُ لَحَبَّرْتُهُ تَحْبِيرًا ، وَلَشَوَّقْتُهُ تَشْوِيقًا
صَحِيحٌ .
صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک رات تلاوتِ قرآن فرما رہے تھے اور نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات ان کی خوش الحانی سماعت فرما رہی تھیں، پھر جب انہیں اس کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے کہا: «لَوْ عَلِمْتُ لَحَبَّرْتُهُ تَحْبِيرًا، وَلَشَوَّقْتُهُ تَشْوِيقًا» ”اگر مجھے علم ہوتا (کہ وہ سماعت فرما رہی ہیں) تو میں اس تلاوت کو بہت زیادہ مزین و آراستہ کر دیتا اور اسے نہایت ہی پُرکشش و شوق انگیز بنا دیتا۔“
صحیح۔
صحیح۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَيْفٍ ، ثَنَا ( عَوْنُ ) بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ بِالْحُزْنِ ، فَإِنَّهُ نَزَلَ بِالْحُزْنِ .
ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم قرآن مجید کی تلاوت حزن و ملال اور رقت آمیز قلبی کیفیت کے ساتھ کیا کرو، کیونکہ اس کا نزول بھی حزن و رقت کے ساتھ ہی ہوا ہے۔“
اس کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں اسماعیل بن سیف اور عون بن عمرو جیسے راوی موجود ہیں۔
اس کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں اسماعیل بن سیف اور عون بن عمرو جیسے راوی موجود ہیں۔