المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ بالألحان باب: خوش الحانی اور نغمگی کے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3486
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ( ثَنَا ) حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقْرَأُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَنِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعْنَ ، ( فَقِيلَ ) لَهُ ، فَقَالَ : لَوْ عَلِمْتُ لَحَبَّرْتُهُ تَحْبِيرًا ، وَلَشَوَّقْتُهُ تَشْوِيقًا
صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک رات تلاوتِ قرآن فرما رہے تھے اور نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات ان کی خوش الحانی سماعت فرما رہی تھیں، پھر جب انہیں اس کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے کہا: «لَوْ عَلِمْتُ لَحَبَّرْتُهُ تَحْبِيرًا، وَلَشَوَّقْتُهُ تَشْوِيقًا» ”اگر مجھے علم ہوتا (کہ وہ سماعت فرما رہی ہیں) تو میں اس تلاوت کو بہت زیادہ مزین و آراستہ کر دیتا اور اسے نہایت ہی پُرکشش و شوق انگیز بنا دیتا۔“
صحیح۔