المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ جمع النَّاسِ عثمان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کرنے کا بیان۔
عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ .
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : الْحَرْفُ الْأَوَّلُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : ( مَا ) الْحَرْفُ الْأَوَّلُ ؟ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُعَلِّمًا إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَحَفِظُوا قِرَاءَتَهُ ، فَغَيَّرَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْقِرَاءَةَ ، فَهُمْ يَدْعُونَهُ الْحَرْفَ الْأَوَّلَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّهُ لَآخِرُ حَرْفٍ عَرَضَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو «الْحَرْفُ الْأَوَّلُ» ”پہلی قرات“ کے الفاظ کہتے ہوئے سنا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا: ”یہ پہلی قرات کیا ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: ”اے ابن عباس! بے شک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اہل کوفہ کی طرف معلم بنا کر بھیجا تھا، چنانچہ وہاں کے لوگوں نے ان کی قرات کو سیکھ کر حفظ کر لیا، پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرات کو (مصحفِ امام کے ذریعے ایک خاص طریقے پر) تبدیل کیا تو وہ لوگ اسے ”پہلی قرات“ پکارنے لگے“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حقیقت واضح کرتے ہوئے فرمایا: ”درحقیقت یہ وہی آخری قرات ہے جس کا سیدنا جبریل علیہ السلام نے نبی کریم ﷺ کے سامنے (وفات والے سال) آخری مرتبہ دورہ کیا تھا“۔
امام مسدد نے کہا: ہمیں ابو عوانہ نے مغیرہ سے، انہوں نے ابراہیم سے یہ روایت بیان کی۔