❮
❯
حدیث نمبر: 3489
( 141 ) تَقَدَّمَ فِيهِ حَدِيثٌ فِي بَابِ الزَّجْرِ عَنْ كِتْمَانِ الْعِلْمِ .
ترجمہ

اس سلسلے میں ایک حدیث پیچھے «باب الزجر عن كتمان العلم» (علم چھپانے پر وعید کے بیان) میں گزر چکی ہے۔

وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ ، وَمَاتَ فِي الْجَمَاعَةِ ، بُعِثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ السَّفَرَةِ وَالْبَرَرَةِ ، وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَهُوَ يَنْفَلِتُ مِنْهُ آتَاهُ اللهُ تَعَالَى أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ ، وَمَنْ كَانَ حَرِيصًا عَلَيْهِ وَلَا يَسْتَطِيعُهُ وَلَا يَدَعُهُ بَعَثَهُ اللهُ تَعَالَى مَعَ أَشْرَافِ أَهْلِهِ ، وَفُضِّلُوا عَلَى الْخَلَائِقِ كَمَا فُضِّلَتِ النُّسُورُ عَلَى سَائِرِ الطُّيُورِ ، وَكَمَا فُضِّلَتْ عَيْنٌ فِي مَرْجَةٍ عَلَى مَا حَوْلَهَا ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا لَا تُلْهِيهِمْ رِعَايَةُ الْأَنْعَامِ عَنْ تِلَاوَةِ كِتَابِي ؟ فَيَقُومُونَ فَيَلْبَسُ أَحَدُهُمْ تَاجَ الْكَرَامَةِ ، وَيُعْطَى الْيُمْنَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِيَسَارِهِ ، ثُمَّ يُكْسَى أَبَوَاهُ إِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ حُلَّةً ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، فَيَقُولَانِ : أَنَّى لَنَا هَذَا ، وَمَا بَلَغَتْ أَعْمَالُنَا ؟ فَيُقَالُ : إِنَّ وَلَدَكُمَا كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ "
هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ ، لَكِنَّ سُوَيْدَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ .
ترجمہ

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قرآن پڑھا اور اس میں موجود احکامات پر عمل کیا، اور مسلمانوں کی جماعت سے وابستہ رہتے ہوئے فوت ہوا، تو اسے قیامت کے دن معزز اور نیکوکار فرشتوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا؛ اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے جبکہ وہ اس کے ذہن سے نکل نکل جاتا ہے (یعنی اسے یاد رکھنے میں مشقت ہوتی ہے) تو اللہ تعالیٰ اسے دوگنا اجر عطا فرمائے گا؛ اور جو شخص قرآن سیکھنے کا نہایت حریص ہو مگر وہ اس کی (بوجہ کمزوریِ حفظ) مکمل قدرت نہ رکھتا ہو لیکن پھر بھی وہ اسے ترک نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے خاندان کے معزز لوگوں کے ساتھ اٹھائے گا، اور انہیں تمام مخلوقات پر ایسی فضیلت عطا کی جائے گی جیسے عقابوں کو دیگر پرندوں پر فضیلت حاصل ہے، اور جیسے کسی شاداب چراگاہ میں بہتے چشمے کو اپنے ارد گرد کی زمین پر برتری حاصل ہوتی ہے؛ پھر ایک پکارنے والا ندا دے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں مویشیوں کی نگہداشت میری کتاب کی تلاوت سے غافل نہیں کرتی تھی؟ پس وہ لوگ کھڑے ہوں گے تو ان میں سے ہر ایک کو عزت و کرامت کا تاج پہنایا جائے گا، اس کے دائیں ہاتھ میں خیر و برکت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی کا پروانہ دیا جائے گا، پھر اس کے والدین کو، بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں، ایسے نفیس لباس پہنائے جائیں گے جو دنیا اور اس کی تمام تر رعنائیوں سے بہتر ہوں گے، تو وہ دونوں (تعجب سے) کہیں گے: ہمیں یہ اعزاز کس بنیاد پر دیا گیا ہے جبکہ ہمارے اعمال تو اس مقام تک پہنچنے والے نہ تھے؟ تو انہیں جواب دیا جائے گا: اس وجہ سے کہ تمہارا بچہ قرآن پڑھا کرتا تھا۔“
یہ سند متصل ہے، لیکن سوید بن عبدالعزیز نامی راوی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 3489
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ ، لَكِنَّ سُوَيْدَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ . »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 11636، 11637، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5961، وأخرجه المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي برقم: 637، 638»