کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: تیز ہوا چلنے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ثَارَتِ الرِّيحُ اسْتَقْبَلَهَا ، وَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ قَالَ : ( اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا ) .
3378 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، ثَنَا خَالِدٌ نَحْوَهُ .
3378 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، ثَنَا خَالِدٌ نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا یہ مبارک معمول تھا کہ جب تیز آندھی یا ہوا چلتی تو آپ ﷺ اس کے سامنے رخ کر لیتے اور اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے، پھر یہ دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رِيَاحًا وَلَا تَجْعَلْهَا رِيحًا ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا رَحْمَةً وَلَا تَجْعَلْهَا عَذَابًا» ”اے اللہ! تو اس (ہوا) کو کثیر نفع بخش ہوائیں بنا دے اور اسے ایک (تباہ کن) ہوا نہ بنانا، اے اللہ! تو اسے باعثِ رحمت بنا دے اور اسے موجبِ عذاب نہ بنانا۔“
امام ابویعلیٰ نے بھی وہب، انہوں نے خالد سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
امام ابویعلیٰ نے بھی وہب، انہوں نے خالد سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ ، وَشَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرُّسُلُ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ ، وَشَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرُّسُلُ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جسے ہوا لے کر آتی ہے اور اس شر سے جسے (تیرے بھیجے ہوئے عذاب کے) فرشتے لے کر آتے ہیں۔“
اس روایت کی سند میں رشدین بن کریب نامی راوی موجود ہے جو کہ ضعیف ہے، اس لیے علمی و فنی اعتبار سے اس کی سند میں کلام پایا جاتا ہے، تاہم آندھی اور ہوا کے شر سے پناہ مانگنے کے متعلق دیگر صحیح احادیث مروی ہیں۔
اس روایت کی سند میں رشدین بن کریب نامی راوی موجود ہے جو کہ ضعیف ہے، اس لیے علمی و فنی اعتبار سے اس کی سند میں کلام پایا جاتا ہے، تاہم آندھی اور ہوا کے شر سے پناہ مانگنے کے متعلق دیگر صحیح احادیث مروی ہیں۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ، ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( الرِّيحُ مِنْ نَفَسِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَسَلُوا اللهَ تَعَالَى مِنْ خَيْرِهَا ، وَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا ) .
ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہوا اللہ عزوجل کی طرف سے عطا کردہ راحت اور اس کی رحمت کی نسیم (ٹھنڈی ہوا) کا ایک حصہ ہے، لہٰذا جب تم اسے (چلتے ہوئے) دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر و بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔“
اس حدیث کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (رقم: 3380) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن القاسم الاسدی ضعیف و متروک راوی ہیں، لیکن یہ حدیث اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے دیگر شواہد کی بنا پر ثابت ہے جن میں ہوا کو «نَفَس الرَّحْمَنِ» یعنی اللہ کی طرف سے پہنچنے والی راحت و رحمت قرار دیا گیا ہے۔
اس حدیث کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (رقم: 3380) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن القاسم الاسدی ضعیف و متروک راوی ہیں، لیکن یہ حدیث اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے دیگر شواہد کی بنا پر ثابت ہے جن میں ہوا کو «نَفَس الرَّحْمَنِ» یعنی اللہ کی طرف سے پہنچنے والی راحت و رحمت قرار دیا گیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، ثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَرْفَعُهُ كَانَ إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا " .
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا یہ معمول مبارک تھا کہ جب کبھی تیز و تند ہوا چلتی تو آپ ﷺ یہ دعا مانگتے: «اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» ”اے اللہ! (اس ہوا کو ہمارے لیے) نفع بخش اور بارش لانے والی بنانا اور اسے بانجھ (یعنی خشک اور تباہ کن) نہ بنانا“۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جس کی بنا پر اس کی سند قوی اور متن مستند ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جس کی بنا پر اس کی سند قوی اور متن مستند ہے۔