المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا هاجت الريح باب: تیز ہوا چلنے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ، ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( الرِّيحُ مِنْ نَفَسِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَسَلُوا اللهَ تَعَالَى مِنْ خَيْرِهَا ، وَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا ) .سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہوا اللہ عزوجل کی طرف سے عطا کردہ راحت اور اس کی رحمت کی نسیم (ٹھنڈی ہوا) کا ایک حصہ ہے، لہٰذا جب تم اسے (چلتے ہوئے) دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر و بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔“
اس حدیث کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (رقم: 3380) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن القاسم الاسدی ضعیف و متروک راوی ہیں، لیکن یہ حدیث اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے دیگر شواہد کی بنا پر ثابت ہے جن میں ہوا کو «نَفَس الرَّحْمَنِ» یعنی اللہ کی طرف سے پہنچنے والی راحت و رحمت قرار دیا گیا ہے۔