المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا انفلتت دابته باب: سواری کے جانور کے چھوٹ جانے پر پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ( ابْنِ بُرَيْدَةَ ) ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّةُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ ( فَلَاةٍ ) فَلْيُنَادِ : يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا ، يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا ، فَإِنَّ لِلهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْأَرْضِ حَاضِرًا سَيَحْبِسُهُ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا چوپایہ یا سواری کا جانور کسی بیابان اور چٹیل میدان میں چھوٹ کر بھاگ نکلے، تو اسے چاہیے کہ وہ ان الفاظ میں پکارے: «يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا، يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا» ”اے اللہ کے بندو! اسے روک لو، اے اللہ کے بندو! اسے پکڑ لو“، کیونکہ زمین میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایسی حاضر باش مخلوق موجود ہوتی ہے جو اسے عنقریب روک لے گی۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں معروف بن حسان نامی راوی کے تفرد کی وجہ سے محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، البتہ امام نووی اور دیگر کبار اہل علم نے اسے فضائلِ اعمال اور اذکار کے باب میں قبول کیا ہے۔