❮
❯
حدیث نمبر: 3382
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ( ابْنِ بُرَيْدَةَ ) ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّةُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ ( فَلَاةٍ ) فَلْيُنَادِ : يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا ، يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا ، فَإِنَّ لِلهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْأَرْضِ حَاضِرًا سَيَحْبِسُهُ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا چوپایہ یا سواری کا جانور کسی بیابان اور چٹیل میدان میں چھوٹ کر بھاگ نکلے، تو اسے چاہیے کہ وہ ان الفاظ میں پکارے: «يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا، يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا» ”اے اللہ کے بندو! اسے روک لو، اے اللہ کے بندو! اسے پکڑ لو“، کیونکہ زمین میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایسی حاضر باش مخلوق موجود ہوتی ہے جو اسے عنقریب روک لے گی۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں معروف بن حسان نامی راوی کے تفرد کی وجہ سے محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، البتہ امام نووی اور دیگر کبار اہل علم نے اسے فضائلِ اعمال اور اذکار کے باب میں قبول کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3382
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 615، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10518، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17105، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5470، 6157»