کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: اس بات کا بیان کہ دعا کے ذریعے کون سی آزمائش اور مصیبت ٹل جاتی ہے۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو عَمْرٍو الْمَدَايِنِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَنْفَعُ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ ، وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَرُدُّ " .
الْمُلَيْكِيُّ ضَعِيفٌ ، وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
3369 \ 2 - وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ .
الْمُلَيْكِيُّ ضَعِيفٌ ، وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
3369 \ 2 - وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ .
ترجمہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تقدیر کے سامنے حذر اور پیشگی احتیاط کچھ فائدہ نہیں دیتی، البتہ دعا (مقدر شدہ مصیبت کو) ٹال دیتی ہے۔“
اس روایت کا راوی ملیکی ضعیف ہے، نیز مکحول کا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع (ملاقات و سماعت) ثابت نہیں ہے۔
اور اسے امام احمد نے اسماعیل بن عیاش کی روایت سے، جو انہوں نے ابن ابی حسین سے، انہوں نے شہر بن حوشب کے واسطے سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، دیگر الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اس روایت کا راوی ملیکی ضعیف ہے، نیز مکحول کا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع (ملاقات و سماعت) ثابت نہیں ہے۔
اور اسے امام احمد نے اسماعیل بن عیاش کی روایت سے، جو انہوں نے ابن ابی حسین سے، انہوں نے شہر بن حوشب کے واسطے سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، دیگر الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ : لَا بَأْسَ أَنْ تُؤَمِّنَ عَلَى دُعَاءِ الرَّاهِبِ إِذَا دَعَا لَكَ ، وَقَالَ : إِنَّهُمْ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ .
ترجمہ
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر کوئی راہب (عیسائی گوشہ نشین عبادت گزار) تمہارے حق میں دعا کرے تو اس کی دعا پر آمین کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے“، نیز انہوں نے یہ بھی فرمایا: ”یقیناً ہمارے (اہلِ ایمان کے) حق میں تو ان کی دعائیں بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پا لیتی ہیں، مگر خود ان کی اپنی ذات کے حق میں ان کی دعائیں قبول نہیں کی جاتیں۔“
اس اثر کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
اس اثر کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔