المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يَقُولُ مِنْ ركب السفينة باب: کشتی پر سوار ہونے والا شخص جو کلمات کہے اس کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَانٌ لِأُمَّتِي مِنَ الْغَرَقِ إِذَا رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ أَنْ يَقُولُوا : بِسْمِ اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ . وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ الْآيَةَ .
3368 \ 2 - تَابَعَهُ سَيْفُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْكُوفِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ .
وَيَحْيَى ضَعِيفٌ جِدًّا .سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے لیے سمندر میں سوار ہوتے وقت غرق ہونے سے بچاؤ کا ذریعۂ امان یہ ہے کہ وہ یہ کہیں: «بِسْمِ اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ”اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہونا (رکنا) ہے، بلاشبہ میرا رب یقیناً بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے“ ﴿بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة هود: 41]۔ اور یہ آیت (تلاوت کریں): ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [سورة الزمر: 67] ”اور انہوں نے اللہ کی ویسی قدر نہ کی جیسی اس کی قدر کرنے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ ان کے شرک سے پاک اور نہایت بلند و برتر ہے“۔“
اس روایت کی متابعت سیف بن حجاج کوفی نے یحییٰ بن علاء سے کی ہے۔
اور یحییٰ نامی راوی سخت ضعیف ہے۔