المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ مَا يرد بالدعاء مِنْ البلاء باب: اس بات کا بیان کہ دعا کے ذریعے کون سی آزمائش اور مصیبت ٹل جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3370
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ : لَا بَأْسَ أَنْ تُؤَمِّنَ عَلَى دُعَاءِ الرَّاهِبِ إِذَا دَعَا لَكَ ، وَقَالَ : إِنَّهُمْ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِينَا وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ .ترجمہ
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر کوئی راہب (عیسائی گوشہ نشین عبادت گزار) تمہارے حق میں دعا کرے تو اس کی دعا پر آمین کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے“، نیز انہوں نے یہ بھی فرمایا: ”یقیناً ہمارے (اہلِ ایمان کے) حق میں تو ان کی دعائیں بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پا لیتی ہیں، مگر خود ان کی اپنی ذات کے حق میں ان کی دعائیں قبول نہیں کی جاتیں۔“
اس اثر کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔