❮
❯
حدیث نمبر: 3371
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ ثَنَا عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَمْرٍ هُوَ حَقٌّ ، مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ فِي أَوَّلِ مَضْجَعِهِ فِي مَرَضِهِ نَجَّاهُ اللهُ تَعَالَى مِنَ النَّارِ ؟ " قَالَ : بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْلَمْ أَنَّكَ إِذَا أَصْبَحْتَ لَمْ تُمْسِ ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ لَمْ تُصْبِحْ ، وَأَنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ مَضْجَعِكَ مِنْ مَرَضِكَ نَجَّاكَ اللهُ تَعَالَى بِهِ مِنَ النَّارِ ، أَنْ تَقُولَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعِبَادِ وَالْبِلَادِ ، الْحَمْدُ لِلهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، اللهُ أَكْبَرُ ، كِبْرِيَاءُ رَبِّنَا وَجَلَالُهُ وَقُدْرَتُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَمْرَضْتَنِي لِقَبْضِ رُوحِي فِي مَرَضِي هَذَا فَاجْعَلْ رُوحِي فِي أَرْوَاحِ مَنْ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنْكَ الْحُسْنَى ، فَإِنْ مِتَّ فِي مَرَضِكَ ذَلِكَ فَإِلَى رِضْوَانِ اللهِ تَعَالَى وَالْجَنَّةِ ، وَإِنْ كُنْتَ قَدِ اقْتَرَفْتَ ذُنُوبًا تَابَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ " .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک ایسی بات کی خبر نہ دوں جو سراسر حق ہے؟ جو شخص اپنی بیماری کے ایام میں بسترِ علالت پر پہلے پہل یہ کلمات کہے گا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے خلاصی عطا فرما دے گا۔“ (سائل نے) عرض کیا: ”جی ہاں (اے اللہ کے رسول ﷺ!)، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جان لو کہ جب تم صبح کرو تو شام کا بھروسہ نہ رکھو اور جب شام کرو تو صبح کی توقع نہ رکھو، اور حقیقت یہ ہے کہ جب تم اپنی اس بیماری میں بستر پر لیٹتے ہوئے یہ کلمات کہو گے تو اللہ تعالیٰ ان کی بدولت تمہیں آگ سے نجات دے دے گا، وہ کلمات یہ ہیں: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، سُبْحَانَ رَبِّ الْعِبَادِ وَالْبِلَادِ ، الْحَمْدُ لِلهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، اللهُ أَكْبَرُ ، كِبْرِيَاءُ رَبِّنَا وَجَلَالُهُ وَقُدْرَتُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَمْرَضْتَنِي لِقَبْضِ رُوحِي فِي مَرَضِي هَذَا فَاجْعَلْ رُوحِي فِي أَرْوَاحِ مَنْ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنْكَ الْحُسْنَى» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہ دائمی زندگی والا ہے جسے کبھی فنا نہیں، پاک ہے وہ ذات جو تمام بندوں اور تمام شہروں (کائنات) کا پروردگار ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی حمد جو کثرت والی، پاکیزہ اور برکت والی ہو، اور ہر حال میں اللہ کا شکر ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، ہمارے رب کی عظمت، اس کی جلالت اور اس کی قدرت ہر جگہ (محیط) ہے، اے اللہ! اگر تو نے مجھے اس بیماری میں میری روح قبض کرنے کے لیے مبتلا کیا ہے، تو میری روح کو ان لوگوں کی ارواح میں شامل فرما دے جن کے لیے تیری طرف سے ﴿الْحُسْنَى﴾ [سورة الأنبياء: 101] یعنی بھلائی اور جنت کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اسی بیماری میں فوت ہو گئے تو اللہ کی خوشنودی اور جنت کی طرف جاؤ گے، اور اگر تم سے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے تو اللہ عزوجل تمہاری توبہ قبول فرما کر تمہیں معاف کر دے گا۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عامر بن یساف ضعیف راوی ہے، تاہم اس دعا کے مختلف اجزاء دیگر مستند روایات سے ثابت ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3371
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف؛ لإرسال الحسن البصري »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»