کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی اور پر درود بھیجنے کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا الرَّبَذِيُّ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى أَنْبِيَاءِ اللهِ وَرُسُلِهِ ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَهُمْ كَمَا بَعَثَنِي صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ " .
3334 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، فَذَكَرَهُ .
3334 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، فَذَكَرَهُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اللہ کے نبیوں اور اس کے رسولوں پر درود بھیجا کرو، کیونکہ اللہ عزوجل نے انہیں بھی اسی طرح (ہدایت کے لیے) مبعوث فرمایا ہے جیسے مجھے مبعوث فرمایا، «صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ» ”اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی سلامتی ہو ان سب پر“۔“
امام احمد بن منیع نے بھی اپنی سند میں ابو سعید (مولیٰ بنو ہاشم) سے، انہوں نے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کرتے ہوئے اسی کے مانند ذکر کیا ہے۔
امام احمد بن منیع نے بھی اپنی سند میں ابو سعید (مولیٰ بنو ہاشم) سے، انہوں نے موسیٰ بن عبیدہ سے روایت کرتے ہوئے اسی کے مانند ذکر کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا حَسَنٌ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ تَكُونُ فِيهِ صَدَقَةٌ فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ ، فَإِنَّ لَهُ بِهَا زَكَاةً " .
ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی شخص کے پاس ایسا مال نہ ہو جس سے وہ صدقہ و خیرات کر سکے، تو اسے چاہیے کہ وہ یہ دعا مانگے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ» ”اے اللہ! تو درود و سلام نازل فرما محمد ﷺ پر جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور رحمتیں نازل فرما تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں پر نیز تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر“؛ تو بلاشبہ اس کا یہ عمل اس کے لیے زکوٰۃ (یعنی نفس کی پاکیزگی اور مالی صدقے کا نعم البدل) بن جائے گا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے بھی اسے اپنی صحیح میں درج کیا ہے، اس کی سند میں اگرچہ کلام موجود ہے مگر فضائل کے باب میں یہ روایت معتبر و مستند تسلیم کی جاتی ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے بھی اسے اپنی صحیح میں درج کیا ہے، اس کی سند میں اگرچہ کلام موجود ہے مگر فضائل کے باب میں یہ روایت معتبر و مستند تسلیم کی جاتی ہے۔