المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأذكار والدعوات— اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی اور پر درود بھیجنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا حَسَنٌ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ تَكُونُ فِيهِ صَدَقَةٌ فَقَالَ : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ ، فَإِنَّ لَهُ بِهَا زَكَاةً " .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی شخص کے پاس ایسا مال نہ ہو جس سے وہ صدقہ و خیرات کر سکے، تو اسے چاہیے کہ وہ یہ دعا مانگے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ» ”اے اللہ! تو درود و سلام نازل فرما محمد ﷺ پر جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور رحمتیں نازل فرما تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں پر نیز تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر“؛ تو بلاشبہ اس کا یہ عمل اس کے لیے زکوٰۃ (یعنی نفس کی پاکیزگی اور مالی صدقے کا نعم البدل) بن جائے گا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے بھی اسے اپنی صحیح میں درج کیا ہے، اس کی سند میں اگرچہ کلام موجود ہے مگر فضائل کے باب میں یہ روایت معتبر و مستند تسلیم کی جاتی ہے۔