کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت برتنے پر وعید اور ڈراوے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا الْأَفْرِيقِيُّ ، عَنْ حُدَيْجِ بْنِ صَوْمِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغَفْلَةُ فِي ثَلَاثٍ : عَنْ ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَحِينَ يُصَلَّى الصُّبْحُ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَغَفْلَةُ الْإِنْسَانِ عَنْ نَفْسِهِ حَتَّى يَرْكَبَهُ الدَّيْنُ " .
3336 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ، بِهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”غفلت اور لاپرواہی کی تین صورتیں ہیں: اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل رہنا، نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد سے لے کر طلوعِ آفتاب تک کے وقت میں غفلت برتنا، اور انسان کا اپنی ذات اور معاشی حالت سے اس قدر بے خبر ہو جانا کہ وہ قرض کے بوجھ تلے دب جائے۔“
امام احمد بن منیع نے شجاع بن ولید سے اور امام عبد بن حمید نے عبداللہ بن یزید مقری کے واسطے سے، دونوں نے عبدالرحمن بن زیاد الافریقی کے طریق سے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3336
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا السند ضعيف، فيه علتان:، 1 - حُديج بن صَومي، وهو مستور. ، 2 - عبد الرحمن بن زياد الأفريقي، وهو ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 6033، 6034، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 4284، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2918/1، 6072/1»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا صَاحِبٌ لَنَا ثِقَةٌ ثِقَةٌ يُقَالُ لَهُ : عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: زُبَيْدٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ عِشْرِينَ سَنَةً يَخْتِمُهُ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، وَعِشْرِينَ سَنَةً يَخْتِمُهُ فِي يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ ، قَالَ : وَاللهِ لَكَأَنَّ عَلَى وَجْهِهِ نُورًا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَنِسَ مِنْ أَصْحَابِهِ غِرَّةً أَوْ غَفْلَةً نَادَى فِيهِمْ بِأَعْلَى صَوْتِهِ " أَتَتْكُمُ الْمَنِيَّةُ رَاتِبَةً إِمَّا شِقْوَةٌ ، وَإِمَّا سَعَادَةٌ " .
قَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ : وَقَالَ لَنَا هَذَا الشَّيْخُ : أَنَا الْعَامَ خَيْرٌ مِنِّي الْعَامَ الْأَوَّلَ ، كَانَتْ لِي الْعَامَ الْأَوَّلَ شَاةٌ ، وَلَيْسَ لِي الْعَامَ شَاةٌ وَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَرَدْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً ، فَادْعُ اللهَ تَعَالَى لِي أَنْ يُزَوِّجَنِي امْرَأَةً صَالِحَةً قَالَ : فَدَعَا اللهَ تَعَالَى فَهُيِّئَتْ لَهُ امْرَأَةٌ صَالِحَةٌ .
ترجمہ
بنی سلیم کے ایک بزرگ زبید نامی سے روایت ہے جنہوں نے بیس سال تک مسلسل دن اور رات میں ایک مرتبہ قرآنِ کریم ختم کیا، اور پھر مزید بیس سال تک ہر دو دن اور دو راتوں میں ایک بار قرآن مکمل کرنے کا معمول رکھا، (راوی کہتے ہیں کہ) اللہ کی قسم! ان کے چہرے پر اس قدر رونق تھی کہ گویا نور برس رہا ہو، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کبھی اپنے صحابہ میں کوئی بے خبری یا غفلت محسوس فرماتے تو انہیں نہایت بلند آواز سے پکار کر متنبہ فرماتے: ”تمہارے پاس موت اپنے مقررہ وقت پر آپہنچی ہے، جو (اپنے ساتھ) یا تو شقاوت و بدبختی لائے گی یا پھر سعادت و خوش بختی۔“
عمر بن حفص بیان کرتے ہیں کہ ان بزرگ نے ہم سے کہا کہ میں اس سال پچھلے سال کی نسبت بہتر حال میں ہوں، کیونکہ پچھلے سال میرے پاس ایک بکری تھی جبکہ اس سال میرے پاس کوئی بکری نہیں ہے؛ نیز ایک شخص نے ان سے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کا ارادہ کیا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا فرمائیں کہ وہ میرا نکاح کسی نیک و صالح عورت سے کروا دے، چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اس شخص کے لیے ایک نیک بخت عورت کا رشتہ میسر آگیا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأذكار والدعوات / حدیث: 3337
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»