کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: تیزیِ طبع اور ذکاوت کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي مَنْصُورٍ الْفَارِسِيِّ ، وَكَانَتْ فِيهِ حِدَّةٌ فَذُكِرَتْ لَهُ ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ أَنَّهَا أَخْطَأَتْنِي ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْحِدَّةَ تَعْتَرِي خِيَارَ أُمَّتِي " .
3243 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبَانَ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ بِهِ .
3243 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبَانَ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ بِهِ .
ترجمہ
ابو منصور فارسی سے روایت ہے کہ ان کے مزاج میں کچھ تیزی اور حدت تھی، چنانچہ جب ان سے اس کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ یہ خصلت مجھ سے چوک جاتی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک مزاج کی حدت اور تیزی میری امت کے بہترین لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے کہا: ہمیں ابو ربیع عتکی نے حدیث بیان کی، انہیں عبدالرحمن بن ابان نے اور انہیں لیث بن سعد نے اسی سند و متن کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔
اور امام ابو یعلیٰ نے کہا: ہمیں ابو ربیع عتکی نے حدیث بیان کی، انہیں عبدالرحمن بن ابان نے اور انہیں لیث بن سعد نے اسی سند و متن کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا سَلَّامٌ الطَّوِيلُ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحِدَّةُ تَعْتَرِي خِيَارَ أُمَّتِي " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تیزی، تندی اور مزاج کی حدت (یعنی جلد غصے میں آ جانا یا طبیعت کا جوشیلا پن) میری امت کے بہترین اور برگزیدہ لوگوں پر بھی طاری ہو جاتی ہے۔“
اس روایت کی سند میں سلام بن سلیم الطویل نامی راوی متروک الحدیث ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت علمی اعتبار سے انتہائی ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند میں سلام بن سلیم الطویل نامی راوی متروک الحدیث ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت علمی اعتبار سے انتہائی ضعیف ہے۔