المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الحدة باب: تیزیِ طبع اور ذکاوت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3244
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا سَلَّامٌ الطَّوِيلُ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحِدَّةُ تَعْتَرِي خِيَارَ أُمَّتِي " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تیزی، تندی اور مزاج کی حدت (یعنی جلد غصے میں آ جانا یا طبیعت کا جوشیلا پن) میری امت کے بہترین اور برگزیدہ لوگوں پر بھی طاری ہو جاتی ہے۔“
اس روایت کی سند میں سلام بن سلیم الطویل نامی راوی متروک الحدیث ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت علمی اعتبار سے انتہائی ضعیف ہے۔