المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الاستعطاف باب: شفقت و مہربانی اور ہمدردی طلب کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، ثَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ : طَارِقٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرُّوَاسِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ارْضَ عَنِّي ، فَأَعْرَضَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي ثَلَاثًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَاللهِ إِنَّ الرَّبَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيُتَرَضَّى فَيَرْضَى . قَالَ : فَرَضِيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي .
3245 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ الصَّائِغُ ، ثَنَا وَكِيعٌ بِهَذَا .
وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ لَهُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ .سیدنا عمرو بن مالک الرواسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: «اِرْضَ عَنِّي» ”اے اللہ کے رسول! مجھ سے راضی ہو جائیے“، تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ مجھ سے اپنا رخِ انور پھیر لیا، جس پر میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! بے شک رب تبارک و تعالیٰ سے بھی جب رضا طلب کی جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے“، راوی کہتے ہیں: ”چنانچہ نبی کریم ﷺ مجھ سے راضی ہو گئے۔“
امام بزار نے اس روایت کو ابراہیم بن زیاد الصائغ کے واسطے سے وکیع سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور فرمایا کہ ہم عمرو بن مالک کی اس ایک حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں جانتے۔