المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الحدة باب: تیزیِ طبع اور ذکاوت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3243
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ دُوَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي مَنْصُورٍ الْفَارِسِيِّ ، وَكَانَتْ فِيهِ حِدَّةٌ فَذُكِرَتْ لَهُ ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ أَنَّهَا أَخْطَأَتْنِي ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْحِدَّةَ تَعْتَرِي خِيَارَ أُمَّتِي " .
3243 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبَانَ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ بِهِ .ترجمہ
ابو منصور فارسی سے روایت ہے کہ ان کے مزاج میں کچھ تیزی اور حدت تھی، چنانچہ جب ان سے اس کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ یہ خصلت مجھ سے چوک جاتی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک مزاج کی حدت اور تیزی میری امت کے بہترین لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے کہا: ہمیں ابو ربیع عتکی نے حدیث بیان کی، انہیں عبدالرحمن بن ابان نے اور انہیں لیث بن سعد نے اسی سند و متن کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔