کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: علم کو چھپانے کی ممانعت اور اس پر زجر و توبیخ کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُقَالُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس علم کی مثال جسے بیان نہ کیا جائے (اور اسے دوسروں تک نہ پہنچایا جائے) اس خزانے کی مانند ہے جس میں سے اللہ عزوجل کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہ کیا گیا ہو۔“
اس حدیث کو امام احمد نے مسند (9109) اور طبرانی نے معجم الاوسط (686) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابراہیم بن مسلم الہجری ضعیف الحفظ ہیں، تاہم علم کو عام کرنے اور اسے نہ چھپانے کی ترغیب دیگر صحیح نصوص سے ثابت ہے۔
اس حدیث کو امام احمد نے مسند (9109) اور طبرانی نے معجم الاوسط (686) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابراہیم بن مسلم الہجری ضعیف الحفظ ہیں، تاہم علم کو عام کرنے اور اسے نہ چھپانے کی ترغیب دیگر صحیح نصوص سے ثابت ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ ، فَكَتَمَهُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ ... وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ .
صَحِيحٌ .
صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص سے کسی ایسی علمی بات کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کا وہ جاننے والا تھا اور اس نے اسے دانستہ چھپا لیا، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کے منہ میں آگ کی لگام دی گئی ہوگی، اور جس شخص نے قرآنِ کریم کے مفہوم و مطلب کے بارے میں بغیر علم و تحقیق کے اپنی رائے سے گفتگو کی، وہ بھی قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اسے آگ کی لگام پہنائی گئی ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے۔