المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ كتمان العلم باب: علم کو چھپانے کی ممانعت اور اس پر زجر و توبیخ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3048
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ ، فَكَتَمَهُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ ... وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ .
صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص سے کسی ایسی علمی بات کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کا وہ جاننے والا تھا اور اس نے اسے دانستہ چھپا لیا، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کے منہ میں آگ کی لگام دی گئی ہوگی، اور جس شخص نے قرآنِ کریم کے مفہوم و مطلب کے بارے میں بغیر علم و تحقیق کے اپنی رائے سے گفتگو کی، وہ بھی قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اسے آگ کی لگام پہنائی گئی ہوگی۔“
یہ حدیث صحیح ہے۔