المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ كتمان العلم باب: علم کو چھپانے کی ممانعت اور اس پر زجر و توبیخ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3047
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُقَالُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس علم کی مثال جسے بیان نہ کیا جائے (اور اسے دوسروں تک نہ پہنچایا جائے) اس خزانے کی مانند ہے جس میں سے اللہ عزوجل کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہ کیا گیا ہو۔“
اس حدیث کو امام احمد نے مسند (9109) اور طبرانی نے معجم الاوسط (686) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابراہیم بن مسلم الہجری ضعیف الحفظ ہیں، تاہم علم کو عام کرنے اور اسے نہ چھپانے کی ترغیب دیگر صحیح نصوص سے ثابت ہے۔