المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الإخلاص فِي العلم باب: حصولِ علم میں اخلاصِ نیت کی ترغیب اور اس پر ابھارنے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ ، وَلَا لِتُحَيِّرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم علم اس نیت سے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے علماء سے فخر و مباہات کرو اور ان پر اپنی برتری جتلاؤ، اور نہ ہی اس لیے سیکھو کہ اس کے ذریعے کم عقل اور نادان لوگوں سے بحث و تکرار کرو، اور نہ ہی اس لیے کہ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کے لیے ان کی آنکھوں کو خیرہ کرو (یعنی شہرت اور واہ واہ چاہو)؛ پس جس شخص نے بھی ایسا کیا، وہ آگ (جہنم) میں جائے گا۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے مگر اس کے ہم معنی شواہد سنن ترمذی (2654) اور سنن ابن ماجہ (254) میں موجود ہیں جو اس کے مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔