المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ تتريب الكتاب باب: تحریر یا خط پر مٹی ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3046
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرِّبُوا الْكِتَابَ أَنْجَحُ لَهُ .ترجمہ
سیدنا یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تحریر (کی سیاہی) پر مٹی ڈال دیا کرو، کیونکہ یہ اسے (پھیلنے سے بچانے اور جلد خشک کر کے) کامیاب بنانے کے لیے زیادہ موزوں طریقہ ہے۔“ یہاں «تَرِّبُوا الْكِتَابَ» سے مراد کاغذ پر موجود تازہ سیاہی پر مٹی ڈالنا ہے تاکہ وہ جذب ہو جائے، اور «أَنْجَحُ لَهُ» سے مراد اس تحریر کی حفاظت اور اسے جلد خشک کرنے میں کامیابی ہے۔
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں ہشام بن زیاد ابو المقدام راوی ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ وہ محدثین کے نزدیک معتبر اور قوی نہیں ہے۔